غزل کے سلسلے میں پہلے اپنے دو شعر پڑھنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے ہمارے بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے سرور اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں غزل میں جوہرِ اربابِ فن کی آزمایش ہے یعنی غزل میں ذاتی واردات کا بیان تو ہے ہی اس کے ساتھ کائنات بھی ذات کے حوالے سے موجود ہے۔ اس کے علاوہ غزل کا آرٹ اشاروں کا آرٹ ہے اور یہ اشارے بڑی بڑی داستانوں کو اپنے اندر سموے ہوئے…
Read MoreTag: essays
آلِ احمد سرور ۔۔۔ اُردو شاعری میں تصوف کی روایت
میلکام مگرج، مشہور انگریزی مصنف نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں اب صرف وہی انگریز باقی رہ گئے ہیں جو تعلیم یافتہ ہندوستانی ہیں۔‘‘ اس پرلطف طنز سے یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ مغربی اثرات کی کتنی ہی برکتیں رہی ہوں (اور یہ برکتیں مسلم ہیں) مگر ان کی وجہ سے اپنی تہذیبی بنیاد، ادبی سر مائے اور علوم و فنون کے متعلق آج کے تعلیم یافتہ طبقے کا رویہ بیگانگی بلکہ بے اعتنائی کا ہوگیا ہے۔ سرسید کی تحریک نے یقیناً ہماری ذہنی زندگی میں بڑی بیداری پیدا کی…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ اردو تنقید کے بنیادی افکار
اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات و نکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب کے مطالعے کے لیے ایک نئی نظر کی ضرورت پڑی۔ تذکروں میں فن کا تصور فنِ شریف کا ہے۔ اس میں جو افکار جھلکتے ہیں ان پر عینیت کا سایہ ہے۔ اس…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عنبرین حسیب عنبر
عنبرین حسیب عنبر عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت خُلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے پہلو دار تفہیم کا حامل یہ شعر عنبریں حسیب عنبر کا ہے جو ہمارے عہد کی ایک مقبول شاعرہ، مدیرہ، معروف نظامت کار اور سنجیدہ محقق ہیں۔اِن دنوںاندرون ملک اور بیرون ملک مشاعروں میں اِ نہیں توجہ سے سنا جا رہا ہے۔پہلے ایک غزل ’’تم بھی ناں‘‘ کا بڑا چرچا رہا۔ ابھی داد و تحسین نہیں تھمی تھی کہ ایک اور غزل ’’توبہ ہے‘‘کا ڈنکا بجنے لگا۔ نہایت پُر اعتماد…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔ پروین فنا سید
پروین فنا سید پروین فنا سید ایک ایسی شاعرہ تھیں جنہوں نے جدت کے نام پر شعری بدعتیں قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا اُن کی شاعری اعتدال، انسان دوستی، حسن و جمال اور اعتماد کی شاعری ہے۔اُن کا پہلامجموعۂ کلام ’’حرفِ وفا‘‘ اُن کی بیس برس کی شعری ریاضت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کافلیپ تحریر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ’’پروین فنا سیّد کی شاعری عفتِ فکر اور پاکیزگیِ احساس کی شاعری ہے۔غزل کی سی صنفِ شعر میں بھی جس میں اکثر شاعروں نے علامت اور…
Read Moreتنقید، منطق، سائنس … ڈاکٹر سلیم اختر
ادب کی اپنی تہذیب ہوتی ہے جس کا ایک جزو کتاب کا کلچر ہوتا ہے جب کہ تنقید ادب کی تہذیب کے تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے تخلیق کی خوشبو عام کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اس ضمن میں یہ امر بھی واضح رہے کہ تخلیق معاشرہ کی ادبی تہذیب کی مظہر، ترجمان اور سمت نما ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ٹیبوز، روحانی اقدار، مذہبی قواعد، سیاسی منظر نامہ، سماجی روےے، عمومی صورتِ حال، اقتصادی امور یہ سب بھی کسی نہ کسی صورت میں تخلیق پر منفی یا مثبت طور پر…
Read Moreزبان کے تیور … ڈاکٹر سلیم اختر
وقت کے بہاﺅ کو بالعموم دریا سے تشبیہ دی جاتی ہے واقعات کے لہر در لہر سلسلوں کی بِنا پر ، وقت غیر مرئی ہے اس لئے کہہ نہیں سکتے کہ یہ تشبیہ مناسب ہے یا نہیں لیکن زبان کے آغاز اور اس کے تشکیلی مراحل کے بارے میں دریا کی تشبیہہ کارآمد محسوس ہوتی ہے۔ ہمالیہ کے سلسلہ کوہ میں ایک گلیشیر گنگا کا منبع ہے۔ گنگا کی مناسبت سے اس گلیشیر کو ”گنگوتری“ کا نام دیا گیا ہے۔ صاف شفاف،موتی سادمکتا پانی، کوہستانی سفر ختم کرکے جب میدان…
Read Moreمحمد یعقوب آسی ۔۔۔ ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں)
ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں انگریز راج کا رسمی ہی سہی خاتمہ ہوتا ہے۔ کروڑوں اسلامیانِ ہند کے دلوں کی دھڑکنیں روح و بدن میں سنسنا اٹھتی ہیں، قافلوں کے قافلے آرزوؤں اور امنگوں کا زادِ سفر لئے اپنے کھیتوں، حویلیوں، کارخانوں کو تج کر سرزمینِ پاکستان کی طرف نکل پڑتے ہیں، یہ جانے سوچے بغیر کہ وہاں پہنچ کر جانے کیسے حالات پیش ہوں، کن لوگوں سے پالا پڑے۔ پاکستان کا مطلب کیا؛ لاالٰہ الا اللہ! یہی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ تسنیم کوثر (مضمون)
تسنیم کوثر لاہور میں مقیم معروف شاعرہ اور افسانہ نگارہ تسنیم کوثر کے افسانوی کردار عمومی طور پرمختلف ہوتے ہیں۔جیسے اُن کے افسانے ’’لینڈ لیڈی‘‘ کا مرکزی کردار ’’زینی‘‘ یا پھر ’’بھاری قیمت‘‘ کا مرکزی کردار ’’بھاگاں۔‘‘ اُن کے ہاں تانیثیت بھی جھلکتی ہے۔مرد اساس معاشرے میں عورت کی مجبوریوں کی عکاسی خوب ہے۔عورت کا شوہر کس طرح اُس کی وفا داری اور قربانیوں کو فراموش کر کے بے حس پتھر بن جاتا ہے۔نسائی مسائل کو انہوں نے اِس حوالے سے اعتدال اورمتوازن انداز میں پیش کیا ہے کہ اُس…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ صالحہ عابد حسین (مضمون)
صالحہ عابد حسین صالحہ عابد حسین نے زندگی کے کھیل اور نقشِ اول جیسے ڈرامے بھی لکھے مگر انہیں شہرت ناول نگاری سے حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ ’’یادگارِ حالی‘‘، ’’خواتینِ کربلا کلامِ انیس کے آئینے میں‘‘ اور ’’جانے والوں کی یاد آتی ‘‘ہے ان کی اہم تصانیف ہیں لیکن انہیں دائمی شہرت ایک ناول نگار کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔مصنفہ کا پہلا ناول عذر ا ۱۹۴۲ء میں شائع ہوا۔ پھر آزادی کے بعد ان کے ناولوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔آتش خاموش،قطرے سے گہر ہونے تک، راہ عمل، اپنی…
Read More