خورشید رضوی

لبوں پہ آج سرِ بزم آ گئی تھی بات مگر وہ تیری نگاہوں کی التجا کہ ’’نہیں‘‘

Read More

صبح کا عذاب ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر یونس خیال

صبح کا عذاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دفتر کا دروازہ لرزاں ٹیبل ویراں فائل کھولوں تو پھٹ جائے جیسے بم کا ایک دھماکہ گھنٹی کی آواز کلاشنکوف کی تڑتڑ تڑ تڑ سے بھی تیز پنسل سے لکھوں تو جیسے اک خونی تحریر سانسوں میں بارود کی بُو اور ٹیلیفون کے تاروں میں ہے چیختے انسانوں کا شور سوچ رہا ہوں: ایسا کیوں ہے میرے پائوں بوجھل کیوں ہیں؟ میری آنکھیں جل تھل کیوں ہیں؟ میں نے شاید آج سویرے سب سے پہلے تازہ اک اخبار پڑھا تھا

Read More

سعید راجہ ۔۔۔۔۔ منکشف ذات کیوں نہیں کرتا

منکشف ذات کیوں نہیں کرتا آئنہ بات کیوں نہیں کرتا ایک دھن ہے کہ اس کو دیکھوں میں وہ ملاقات کیوں نہیں کرتا میرے صحرا میں پھول کھل اٹھیں ایسی برسات کیوں نہیں کرتا تیری نظروں سے کیا نہیں ممکن تو کرامات کیوں نہیں کرتا آشنائی کی آرزو ہے تجھے تو سوالات کیوں نہیں کرتا قطرہ قطرہ عنایتیں مجھ پر غم کی بہتات کیوں نہیں کرتا تیرے حالات بھی بدل جائیں تو مناجات کیوں نہیں کرتا اک معمہ ہی بن گیا ہے سعید دل تری بات کیوں نہیں کرتا

Read More

میر مہدی مجروح

نہ تو دنیا ہی میسر ہے، نہ دیں کے اسباب ہائے مجروح! کہاں تیرا ٹھکانہ ہو گا

Read More

نظام رام پوری

چشمِ گریاں! یہ کس نے پونچھے اشک دیکھ تو کون آئے بیٹھے ہیں

Read More

اُس دن سرد ہوا میں ۔۔۔۔۔ توقیر عباس

اُس دن سرد ہوا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس دن سرد ہوا میں جب پیڑوں سے پتے ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے میں نے اُسے اُداس اور تنہا دیکھا چیزیں بھی دھندلائی ہوئی تھیں اُجڑی اُجڑی آنکھیں گہرے غم سے مٹی مٹی رنگت اُس کے ذہن میں اڑتے پتوں جیسی سوچوں کا طوفاں تھا وہ اپنے پیچھے بوڑھی خوشیوں کو بھول گیا تھا خود کو کھونے کی خواہش جادۂ کوہِ بلند پہ اُس کو لیے جاتی تھی آخری بار اُداس نظر سے اُس نے بستی کے اک کچے گھر کی جانب…

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے

جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کم نہ پڑ جائے کچھ احتیاط ! مری آگ تاپنے والو کسی کی آنکھ میں شعلے کا نم نہ پڑ جائے مجھے یہ ڈر ہے مری رائگاں دعاؤں سے تمھاری تیغ ِ تغافل میں خم نہ پڑ جائے بہ فیض ِ عشق مجھے اپنا غم نہیں، لیکن یہ غم ہے، اُس کو مذاق ِ ستم نہ پڑ جائے یہ شہد و شعر دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں کہیں اسے کوئی کار ِ اہم نہ…

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔۔۔۔ سورج سے ہے نہ چاند ستاروں سے روشنی

سورج سے ہے نہ چاند ستاروں سے روشنی پھیلی جہان بھر میں اندھیروں سے روشنی پھر ایک دن وہ اُس سے ہم آغوش ہوگئی دریا کو دیکھتی تھی کناروں سے روشنی جلتا ہے کس مکاں میں دیا ، کس مکاں میں دل یہ بات لے اڑی ہے دریچوں سے روشنی گزرا ہے اِس طرف سے بھی شاید کوئی چراغ پھوٹی پڑی ہے راہ گزاروں سے روشنی سرگوشیاں ہیں کس کی ، اندھیرے میں کون ہے گلیوں میں جھانکتی ہے مکانوں سے روشنی بس اک لرزتی لَو تھی دلِ زار کی…

Read More