اَوہام و عَقاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیف دورِ بندگی میں کس کو سمجھائوں کہ ہے صرف روحِ آدمیّت ہی اِلٰہُ العالمیں حیف حرفِ حق سے اب تک بر سرِ پیکار ہے عالمِ دینِ متین و مفتئ شرعِ مبیں حیف اوہام و عقاید کے سیہ بازار میں آج تک نورِ حقایق کی کوئی قیمت نہیں عقل کی توہین ہے عرشِ بریں کا احترام آ کہ اب ڈالیں بِنائے سطوتِ فرشِ مبیں دین کے قدموں پہ قرنوں تک یہ دنیا جھک چکی آ کہ اب دنیا کے قدموں پر جھکا دیں فَرقِ دیں
Read MoreMonth: 2020 مارچ
نئے کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بارہ عدد غلط فہمیاں ۔۔۔ رحمان حفیظ
نئے کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بارہ عدد غلط فہمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلط فہمی نمبر ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں کرونا کے کیسز بہت کم ہیں؟ نہیں ۔۔۔ پاکستان میں پچھلے چاردنوں کے دوران مریضوں کی تعداد تین سے چار گنا بڑھ گئی ہے جو خطر ناک ترین ہے۔ مزید خطرناک بات یہ ہے کہ نئے مریض مقامی طور پر وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ اضافے کی اس شرح پر قابو نہ پایا گیا تو طبی سہولتیں نا کافی ہوجائیں گی۔ غلط فہمی نمبر دو ۔۔۔۔۔۔۔ کرونا مریض سے سامنا…
Read Moreخالد علیم
موسمِ یخ میں کوئی خاک بسر سیلانی ڈھونڈتا پھرتا تھا گم گشتہ سفر پانی میں
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک
آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک از زمیں تا سرِ افلاک ہے خاک یوں تو ہر آن لہو سا چھلکے دل کہ درپردۂ صد چاک ہے خاک آدمی کا ہوئی پیراہنِ جاں کس قدر سرکش و چالاک ہے خاک ہر قدم رہتی ہے زنجیر بپا کیوں تری زلف کا پیچاک ہے خاک ایک تو ہے کہ ہَوا ہے کوئی ایک میں ہوں، مری پوشاک ہے خاک پائوں سے نکلے تو سر تک پہنچے کیا سمجھتے ہو میاں، خاک ہے خاک
Read Moreجاں آشوب ۔۔۔ خالد علیم
جاں آشوب ۔۔۔۔۔۔۔ کیا نکلا سنگِ چقماق کے دَور سے یہ نادان پتھر بن کر رہ گیا پورا، مٹی کا انسان جذبے پتھر، سوچیں پتھر، آنکھیں بھی پتھر تن بھی پتھر، من بھی پتھر، پتھر ہے وجدان اپنے پتھر سینے میں ہے پتھر کی دھڑکن اپنے پتھر ہونٹوں پر ہے پتھر کی مسکان آج بھی ہم پتھر کی پوجا پاٹ میں بیٹھے ہیں اپنے ہاتھ سے آپ تراش کے پتھر کا بھگوان ۔۔۔۔ ہم نے شہر بنائے، ہم نے گھر آباد کیے ہم نے انسانوں کو دی تہذیبوں کی پہچان…
Read Moreپروین شاکر
گُل لے گئے عطّار، ثمر کھا گئے طائر سورج کی کرن باغ میں تاخیر سے آئی
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا
ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا بجتے رہے ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو، انھیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر، تم کو اس سے کیا ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر، تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے…
Read Moreتوقع ۔۔۔ پروین شاکر
توقع ۔۔۔۔ جب ہوا دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہُوئی خواب آسا، سماعت کو چھو جائے، تو کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
سجدہ، اظہارِ ماندگی ہی تو ہے سانس پھولی تو لَو خدا سے لگی
Read Moreاحمد ندیم قاسمی ۔۔۔ پھر بھیانک تیرگی میں آگئے
پھر بھیانک تیرگی میں آگئے ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے ہائے خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی، چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئنے کی چادریں پھیلا گئے کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے اُن کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے اک پہیلی کا ہمیں دے کر جواب ایک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھر وہی اختر شماری کا نظام ہم تو اس تکرار سے اکتا…
Read More