انسان ۔۔۔۔۔ خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیم اگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیم وہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کا وہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کا وہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کیا وہ جس نے وسعتِ عالم کو اِک زقند کیا وہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائی تو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئی وہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیا وہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیا بڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر…
Read MoreMonth: 2020 مارچ
تیس منٹ ۔۔۔ حامد یزدانی
تیس منٹ ۔۔۔۔۔۔ ’’لو بھئی، سن انیس سو پچاسی کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے آخرِ کارایک اور دن اپنی تمام تر بیزار کن مصروفیات کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ جنگ کے دفتر تابشؔ سے ملاقات ہی تو آج کی آخری باقاعدہ مصروفیت تھی۔ سو، وہ بھی رات گیارہ بج کر بیس منٹ پر تمام ہوئی۔۔۔اور اب خیر سے گھر واپسی کا سفر۔۔۔لیکن آپ جناب یہاں کیسے۔۔۔؟‘‘ ’’مجھ سے ملنے؟ اور اِس وقت۔۔۔؟‘‘ ’’ارے نہیں، مجھے بُرا ہرگز نہیں لگا۔۔۔بس ذرا حیرانی ہوئی۔ دیکھیے، سامنے شملہ پہاڑی…
Read Moreاصغر گونڈوی
خوب تھا صحرا ، پر اے ذوقِ جنوں! پھاڑنے کو نت نئے دامن کہاں
Read Moreمبشر سعید ۔۔۔۔۔۔۔ راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا
راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا حال میں جان چُکا آنکھ کی تنہائی کا کیسے وہ درد کی شدت کو سمجھ سکتا ہے؟ جس کو اندازہ نہ ہو زخم کی گہرائی کا کارِ دنیا میں لگاؤں تو مسلسل ہی مرے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے رُسوائی کا غیب سے حضرتِ غالب کی صدا آتی ہے شاعری کام نہیں قافیہ پیمائی کا عاجزی ہم نے بنایا ہے وطیرہ اپنا بسی یہی کام کیا زیست میں دانائی کا رات ہو وصل کی بارش میں نہائی ہوئی رات ہم…
Read Moreاور بارش ہے … ابرار احمد
اور بارش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بے کار محبت کی سیہ کاری میں بھیگ جاتا ہوں تو سو جاتا ہوں اور بارش ہے کہ گرتی ہی چلی جاتی ہے بند آنکھوں پہ تھکے اعضا پر شہر نم ناک میں سانسوں سے بھری گلیوں پر نارسائی کی طنابوں سے بندھے جسموں پر اور ناکردہ گناہوں کے تعفن زدہ کپڑوں سے بھرے کوٹھوں پر اور بے انت کے میدانوں میں!
Read Moreآرزو لکھنوی
دفعتاً ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہے اُلجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر
Read Moreسید ظہیر کاظمی ۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ بھی خود میں کتنا پیارا تھا
وہ لمحہ بھی خود میں کتنا پیارا تھا کوزہ گر کے ہاتھ میں جس دم گاراتھا ہم پردیسی، ہم کیا جانیں باغ کے دکھ ہم نے اپنا جیون تھر میں ہارا تھا اب کے ایسا پھول کھلا تھاصحرا میں جس کے رخ سے روشن چاند ستارہ تھا اُن آنکھوں کی وحشت کا کچھ مت پوچھو جن ہاتھوں نے تنہا دشت سنوارا تھا ہم نے اس کی خاطر گھر بھی چھوڑ دیا جس نے ہم کو دشت میں لا کر مارا تھا آئو، دیکھو پھول کھلے ہیں صحرا میں یہ مت…
Read Moreبرف باری کی رُت ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض
برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برفباری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے مہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشئِ جسم و جاں کے نشے میں گئی برفباری کی رُت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں کچھ نہیں اب کہ ہر شے نئی ہے ہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہے ہری پتیوں کی…
Read Moreیزدانی جالندھری
ڈھل جاتی ہے الفاظ میں تاثیر ہوا کی فن کار بنا لیتا ہے تصویر ہوا کی
Read Moreعلی ارمان…… نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی
نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی یقیں کے لہجے میں لکنتیں ہیں گمان جیسی زمین سے پیش آﺅں کس طرح کجروی سے کہاں سے لاﺅں میں گردشیں آسمان جیسی بہت ہی ضدی انا ہے کب ہار مانتی ہے لُٹے ہوئے اک نواب کی آن بان جیسی لہو میں اب بھی کبھی مچلتی ہے کوئی خواہش عذابِ ہجرت میں کٹ چکے خاندان جیسی اُسے چھوا تو بدن میں اک کپکپی سی جاگی کسی پرندے کی پہلی پہلی اڑان جیسی ابھی بھی یادوں کے طاق سے تیر مارتی ہے…
Read More