سوداگر ۔۔۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سوداگر ۔۔۔۔۔۔ لو گجر بج گیا صبح ہونے کو ہے دن نکلتے ہی اب میں چلا جاؤں گا اجنبی شاہراہوں پہ پھر کاسۂ چشم لے لے کے ایک ایک چہرہ تکوں گا دفتروں، کارخانوں میں، تعلیم گاہوں میں جا کر اپنی قیمت لگانے کی کوشش کروں گا میری آرامِ جاں! مجھ کو اک بار پھر دیکھ لو آج کی شام لوٹوں گا جب بیچ کر اپنے شفّاف دل کا لہو اپنی جھولی میں چاندی کے ٹکڑے لیے تم بھی مجھ کو نہ پہچان پائیں تو پھر میں کہاں جاؤں گا…

Read More

شکیب جلالی

اک نقرئی کھنک کے سوا کیا ملا شکیب ٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے

Read More

زعیم رشید ۔۔۔۔۔۔۔۔ باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں

باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں عشق کی آگ جوانی میں لیے پھرتا ہوں ایک کردار جو آیا نہ پلٹ کر واپس آج بھی اپنی کہانی میں لیے پھرتا ہوں اس لیے یاد مجھے آتا ہے تو ہر لمحہ خود کو میں تیری نشانی میں لیے پھرتا ہوں رقص کرتے ہوئے ہوجاتا ہوں خوشبو کی طرح خود کو میں رات کی رانی میں لیے پھرتا ہوں اک جدائی کی خزاں ہے کہ جسے صدیوں سے موسم گل کی روانی میں لیے پھرتا ہوں عکس کی موت بنی…

Read More

وہ لڑکی ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض

وہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ جن پر میرا دل دھڑکا تھا، وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے، بن کاجل اچھی لگتی ہیں مری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیسی ہوں گی اُس کی آنکھیں تنہائی میں چپکے چپکے نازک سپنے بنتی ہو گی تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیا وہ مجھ سے اچھی ہو گی؟ مجھ کو تم سے کیا دلچسپی، میں اک اک کو سمجھاتی ہوں یاد بہت آتے ہو جب…

Read More

عدیم ہاشمی

وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اُسے محسوس کر سکتا تھا، چھو سکتا نہ تھا

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔۔ پُل نہ رہا درمیاں، سیلِ خطر رہ گیا

پُل نہ رہا درمیاں، سیلِ خطر رہ گیا کوئی اِدھر رہ گیا، کوئی اُدھر رہ گیا کتنی ہی صبحیں کبھی میرے گریباں میں تھیں آنکھ میں اب تو فقط خوابِ سحر رہ گیا کچھ بھی نہیں رہ گیا جسم میں دل کے سوا راکھ کے اِس ڈھیر میں ایک شرر رہ گیا جس کے در و بست پر میں نے توجہ نہ دی آخر اُسی نقش کا مجھ میں اثر رہ گیا وقت کی لہر اس طرح سب کو بہا لے گئی اب یہ پتہ ہی نہیں، کون کدھر رہ…

Read More

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔ جون ایلیا

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو، میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا اِن کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبادی میں، کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں، ہاں میرے خوابوں کو تمھاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے اِن صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے سو میرے…

Read More

اردو ادب کی تشکیلِ جدید ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غافر شہزاد

اُردو ادب کی تشکیلِ جدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر عباس نیر اورئینٹل کالج پنجاب یو نیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاد ہیں۔وہ اردو ادب پڑھاتے ہی نہیں ہیں بل کہ اردو ادب کے موضوعات پر کئی برسوں سے مسلسل لکھ رہے ہیں۔ آج اُن کا نام ان کے ہم عصروں میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ قومی اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور انھوں نے یہ مقام کسی کے کاندھوں پر کھڑا ہو کر یا کسی کا بغل بچہ بن کر حاصل نہیں کیا بل کہ…

Read More

احمد مشتاق

اب شام تھی اور گلی میں رکنا اُس وقت عجیب سا لگا تھا

Read More

عالمتاب تشنہ ۔۔۔ گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے پہلے نصابِ عدل ہُوا ہم سے انتساب پھر یوں ہُوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے پہلے لہو لہان کیا ہم کو شہر نے پھر پیرہن ہمارے علَم کر دیے گئے ہر دور میں رہا یہی آئینِ منصفی جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دیے گئے اِس دورِ نا شناس میں ہم سے عرب نژاد لب کھولنے لگے تو عجم کر دیے گئے جب درمیاں میں آئی کمالِ بشر…

Read More