زمانے سے باہر ……. خورشید رضوی

زمانے سے باہر ……………. زمانی تسلسل میں مَیں کام کرتا نہیں ہوں زمانے سے باہر کی رَو چاہیے میرے دل کو زمانہ تو اِک جزر ہے مَد تو باہر کسی لازماں، لامکاں سے اُمڈتا ہے قطاروں میں لگنے سے حاصل نہیں کچھ کہ وہ لمحۂ مُنتظر تو کسی اجنبی سمت سے آتے دُم دار تارے کی صورت ۔۔۔ جو صدیوں میں آتا ہے ۔۔۔ آئے گا اور اِن قطاروں میں بھٹکے مداروں کو مقراض کے طور سے جانبِ عرض میں قطع کرتا نکل جائے گا زمانے کے اِس بانجھ پَن…

Read More

منیر سیفی

گردن میں بل آنا ہی تھا، پھر بھی سیفی! بوجھ ذرا سا اور اٹھایا جا سکتا تھا

Read More

انور شعور ۔۔۔۔۔۔ بندہ کوئی برا نہ بھلا میرے ساتھ ہے

بندہ کوئی برا نہ بھلا میرے ساتھ ہے لیکن، شعور! میرا خدا میرے ساتھ ہے کیا خوف زندگی کی کڑی دھوپ کا مجھے جب تک ردائے صبر و رضا میرے ساتھ ہے میں ازرہِ خلوص و وفا اُس کے ساتھ ہوں جو ازرہِ خلوص و وفا میرے ساتھ ہے رنج و الم میں چین نہ عیش و طرب میں چین پروردگار! مخمصہ کیا میرے ساتھ ہے بوتل بھی زادِ راہ میں رکھی ہوئی ہے ایک بیمار ہوں چناں چہ دوا میرے ساتھ ہے عاجز ہوں میں تمھاری رفاقت سے اے…

Read More

مٹّی کے رنگ ۔۔۔۔۔ قاضی حبیب الرحمٰن

مٹّی کے رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہانِ خاک کی پہچان ، اسم ہے گویا ہزار طرح کا جس میں طلسم ہے گویا ہم اپنے آپ سے گزرے تو یوں ہُوا محسوس حدودِ جسم سے آگے بھی جسم ہے گویا

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں

بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں اندیشے دیواروں میں دَر کر دیتے ہیں دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں غزلوں میں اظہارِ حقیقت ہوتا ہے لوگوں کو حالات سخن ور کر دیتے ہیں ایسے لوگوں میں ہے بود و باش میری جو لفظوں کو ناوک و نشتر کر دیتے ہیں جب میں اُن کا اسمِ گرامی لیتا ہوں وہ میرے حالات کو بہتر کر دیتے ہیں جو باتیں سینوں میں چبھتی رہتی ہیں ہم اشعر شعروں میں اجاگر کر…

Read More

قلندر بخش جرات

جس کے غم میں آہ ہم آرام سے واقف نہیں کیا غضب ہے، وہ ہمارے نام سے واقف نہیں

Read More

ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے ۔۔۔۔۔ محمد اظہارالحق

ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے فراق کی رات آ رہی ہے طویل ہونے لگے ہیں سائے وہ دور جھاڑی سے پھڑپھڑاتا پروں کو نکلا کوئی پرندہ عجیب سا درد، دور، دل میں کہیں اٹھا ہے کہیں کوئی جیسے مر رہا ہے فضا میں واماندہ بادلوں کے غریب ٹکڑے بھٹک رہے ہیں اداس سا ہول زینہ زینہ اتر رہا ہے جدائی تیزاب ہے کہ چہرے پہ جس کے قطرے ٹپک رہے ہیں وہ ایک سورج ہی تھا جو سردی سے جسم میرا بچا…

Read More

ساقی فاروقی

طوافِ درد نہ کر، آنسوؤں کے پاس نہ رہ جواز ڈھونڈ کوئی، بے سبب اداس نہ رہ

Read More

بھولے بسرے شہر کے لیے ایک نظم ۔۔۔۔۔ محمد افتخار شفیع

بھولے بسرے شہر کے لیے ایک نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میناروں پر کچے آم کی خوشبو جیسی اک بے نام سی صبح اور اس میں اک چھوٹے سے سر اور بڑے بدن کا (شاہ دولے کے چوہے جیسا) آنکھیں مَلتا شہر کب سے اونگھ رہا تھا کہنہ قلعے کی دیواریں تو گردشِ دوراں چاٹ گئی تھی رکن عالم کے روضے پر گداگروں کا قبضہ تھا اور جالی میں جھانکتی کرنوں سے روزانہ سورج آ کر منہ دھوتا تھا خلقِ خدا بھی دیکھ کے اس کو شرماتی تھی ’ہوٹل تاج‘ کو جاتی رہ…

Read More

عرفان ستار ۔۔۔۔۔ سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے بتا دوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گم ہو گیا ہے تمھارے دن میں اک روداد تھی جو کھو گئی ہے ہماری رات میں اک خواب تھا، گم ہو گیا ہے وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھی کہانی میں کہیں وہ ماجرا گم ہو گیا ہے ذرا اہلِ جنوں! آؤ، ہمیں رستہ سجھاؤ یہاں ہم عقل والوں کا خدا گم ہو گیا ہے نظر باقی ہے لیکن تابِ نظارہ نہیں اب سخن باقی ہے لیکن…

Read More