جعفر بلوچ

تمام رات رہا مے کدہ نشیں جعفر گیا ہے اٹھ کے یہاں سے وہ نیک بخت ابھی

Read More

یونس متین ۔۔۔ برف گرتی رہی

برف گرتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برف گرتی رہی اک تسلسل سے سڑکوں پہ، شاخوں پہ، دیوار و در، رہ گزاروں پہ گرتی رہی برف گرتی رہی شہر اور شہر کے لوگ سب برف کی قید میں جیسے تنور ہو برف کا اور اُبلنے لگے جیسے اک برف کا ریگ زارِ رواں ہو سرِ آسماں پرفشاں پچھلے دو دن سے مسدود کارِ جہاں میرے بیڈ روم کی بند کھڑکی کو چھوتی ہوئی شاخ پر روز ہی صبح جو چہچہاتی تھی چڑیا نجانے کہاں کھو گئی! کون سے کم پناہوں کی باہوں میں…

Read More

احمد حسین مجاہد … اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب

اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب میرے ذمے ہے نگہبانی ِ ویرانہ ٔ خواب جس پہ اترا ہی نہیں غم کا صحیفہ کوئی مجھ سے وہ خاک سنے گا مرا افسانہ ٔ خواب یہ بھی ممکن ہے کرے حسب ِ تقاضا ہی سلوک مجھ سے شائستہ ٔ وحشت سے وہ بے گانہ ٔ خواب دو مقامات ہیں زیبائی ِ عالم کے کفیل اک تری بزم ہے اک میرا پری خانہ ٔ خواب یہ ترے ہونٹ ، یہ رخسار ، یہ آنکھیں ، یہ جبیں عرصہ ٔ…

Read More

ڈاکٹر غافر شہزاد … خیال نال موت ہے، خیال نال زندگی … جوگی جہلمی

خیال نال موت ہے، خیال نال زندگی جوگی جہلمی ………………………………………….. اللہ دتہ المعروف جوگی جہلمی،بیسویں صدی کے پنجابی زبان کے نہایت اہم شاعر تھے جنہوں نے نصف صدی سے زاید عرصہ شعروادب میں اپنا نام اور مقام بنائے رکھا۔ پنجاب بل کہ پاکستان میں ہونے والا کوئی قومی اور عالمی سطح کا مشاعرہ ایسا نہ تھا کہ جہاں جوگی جہلمی کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ نہ بلایا جاتا۔ وہ ایک جانب اگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والے مشاعروں کی جان تھے تو دوسری جانب ادبی تنظیموں کے…

Read More

سید آل احمد

دوں گا کسے صدا کہ سماعت کوآ سکے اے یادِ یار! زخم اگر بولنے لگا

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔ جسم میں رسمِ تنفس کا عمل جاری ہو

جسم میں رسمِ تنفس کا عمل جاری ہو تم جو چھو لو تو نئے خواب کی تیاری ہو! رات میں صبح اُمڈتی ہو کہ تم آن مِلو نیند کی نیند ہو، بیداری کی بیداری ہو تم جو سوئے رہو ، سورج بھی نمودار نہ ہو عکس کے شوق میں آئینے کی تیاری ہو کتنے دلچسپ خیالوں کو جنم دیتی ہے! وہ مری چُپ ہو کہ منظر کی سُخن کاری ہو! نہ سہی شاعری ، پیغمبری ، مختار مگر!! کون ہے جو مرے اِلہام سے انکاری ہو؟

Read More

عابد ادیب ۔۔۔ آرزؤں کو وسعت نہ دو

آرزؤں کو وسعت نہ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آرزؤں کو وسعت نہ دو اپنے ہی دائرہ میں مقید کرو ورنہ یہ پھیل کر ہر طرف سے تمھیں گھیر لیں گی نوچ ڈالیں گی، زخمی کریں گی خود بکھر جائو گے، روح مر جائے گی اپنی ہی لاش سر پر اٹھائے بیچ بازار ننگے پھرو گے اپنے ہی لوگ نزدیک آ کر تم کو دیکھیں گے، منہ پھیر لیں گے تم کو غلطی کا احساس ہوگا تھوک نگلو گے کڑوا لگے گا رات، ویران بے کیف ہوگی دن پہاڑوں سا بھاری لگے گا…

Read More

عازم کوہلی

دکھ پہ میرے رو رہا تھا جو بہت جاتے جاتے کہہ گیا: اچھا ہوا

Read More

جانثار اختر

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

Read More

احمد خیال ۔۔۔ دانیال طریر (مرحوم) کے لیے

Read More