دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں اب کسی شہر کی بُنیاد نہ ڈالی جائے مصحفِ رُخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے وہ مرّوت سے ملا ہے تو جُھکا دوں گردن میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے بے نوا سحر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز کس طرح سے میری آشفتہ خیالی جائے
Read MoreTag: Ahmad Faraz
احمد فراز
کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
Read Moreاحمد فراز
ہر خواب عذاب ہو چکا ہے اور تو بھی تو خواب ہو چکا ہے
Read Moreاحمد فراز … برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھچے کھچے سے، آنکھيں جھکی جھکی سیباتيں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھےبن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُس کے، يادوں ميں ياد اُس کینيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميںوہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديںتازہ…
Read Moreاحمد فراز
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فراز رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
Read Moreمحمد نوید مرزا ۔۔۔ جس کو احمد فراز کہتے ہیں (احمد فراز کے لیے نظم)
جس کے شعروں میں دل دھڑکتا تھا جس کی باتوں میں رنگ ہوتے تھے اُس کے لفظوں کے دائرے اندر ان گنت تتلیاں بھی ہوتی تھیں پھول ، خوشبو ، ہوا ، سبھی موسم دسترس میں وہ اپنی رکھتا تھا حرف اُس کے غلام تھے سارے وہ اُنھیں دم بدم پرکھتا تھا ظلمتوں کے خلاف بھی اُس نے روشنی کے پیام لکھے تھے جو صفِ دشمناں میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کے نام لکھے تھے عام لوگوں میں خاص تھا کوئی زندگی کی اساس تھا کوئی اُس کی یادوں میں…
Read Moreاحمد فراز ۔۔۔ کنیز
کنیز ۔۔۔۔۔۔ حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پر حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر حضور خیریت تو ہے، حضور کیوں خموش ہیں حضور بولیے کہ وسوسے وبالِ ہوش ہیں حضور، ہونٹ اِس طرح کپکپا رہے ہیں کیوں حضور آپ ہر قدم پہ لڑکھڑا رہے ہیں کیوں حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہے حضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پر حضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پر…
Read Moreاحمد فراز … اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی تِرا احساں جاناں دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فسردہ تُو بھی دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں (ق) اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں…
Read Moreاحمد فراز ۔۔۔ راتیں ہیں اُداس، دن کڑے ہیں
فراز صاحب(خاکہ) ۔۔۔ اسحاق وردگ
فراز صاحب (خاکہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جسے احمد فراز صاحب سے ملنے،شعر سننے،مکالمہ کرنے،ہاتھ ملانے اور آٹوگراف لینے کے بے شمار مواقع انعام ہوئے۔۔۔! یہ دیارِ ادب میں خوش نصیبی کی اعلا مثال ہے کہ فراز صاحب پشاور میں پلے بڑھے،ادبی اٹھان کی خوش بختی ملی۔۔۔ مجھے بھی اس شہرِ ہفت زبان میں جنم لینے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے اور ان گلیوں میں سانس لینے کے موسم ملے ۔۔۔ آج بھی پشاور کے قہوہ خانوں، ادبی حجروں اور شہر کی قدیم گلیوں میں فراز صاحب کے…
Read More