خالد علیم

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں

Read More

خالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…

Read More

آدرش دبے

ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہے میری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہے

Read More

احمد فراز

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے

تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں

پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں ہم…

Read More

مرزا غالب

بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

Read More

جون ایلیا

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

Read More

اطہر نفیس

وہ دور قریب آ رہا ہے جب دادِ ہنر نہ مل سکے گی

Read More