اظہر فراغ ۔۔۔ غزلیں

اسی لیے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیےضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہےابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کس سے کر کے اس کو…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!

اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!صاف کم تر نظر آتا ہے وہ بر تر مجھ میں آئنہ دیکھنا اب فرض ہُوا ہے مجھ پراب نظر آنے لگا ہے تیرا پیکر مجھ میں جس نے بھی دیکھا اسے چشمِ ہوس سے دیکھاباہر آئی جو تمناّ بھی، سنور کر مجھ میں جو کرن بن کے مِری آنکھ میں دَر آئی تھیآج بھی جیسے وہ ساعت ہے منوّر مجھ میں اوّل اوّل جو مِرے کان میں ٹپکائی گئیگونجتی ہے وُہی آواز برابر مجھ میں

Read More

انصر حسن ۔۔۔ مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے

مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے کوئی میری زندگی ہے کوئی میری جان ہے کس لئے کوئی نگارش میں زمانے کی پڑھوں بچپنے سے پاس میرے میر کا دیوان ہے جسم کے زندان سے آزاد کوئی ہو گیا یار مسجد میں کسی کی موت کا اعلان ہے رہ رہا ہوں ان دنوں میں ایک ریگستان میں شہر ہے برباد بستی بھی مری ویران ہے دل یہ کہتا ہے کہ آئیں گے مسافر لوٹ کر دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کا ابھی امکان ہے جو ترا…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں

بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں ہم اپنی جاں پہ کیا کیا آفات کاٹتے ہیں لطفِ سخن ہی اُن سے باقی نہیں رہا اَب ہم بات جوڑتے ہیں وہ بات کاٹتے ہیں کیا پوچھتے ہو ہم سے کیا لکھ رہے ہیں ، لیکن اِتنی خبر ہے جس پر یاں ہات کاٹتے ہیں اے آسماں تجھے کچھ معلوم ہے حقیقت ہم کس طرح سے اپنے اوقات کاٹتے ہیں تھم جائے گا بالآخر یہ زورِ گریہ خاورؔ چلیے اِک اور غم کی برسات کاٹتے ہیں

Read More

قابل اجمیری

خود اہلِ کشتی کی سازشیں ہیں کہ نا خدا کی نوازشیں ہیں وہیں تلاطم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

اکرم کنجاہی…  روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر)

 روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر) کاشف حسین غائر ہمارے کراچی کے ان چند تازہ دم شعرا میں سے ہیں جن کے ہاں تھکاوٹ کا احساس نہیں۔ وہ بڑے سلیقے سے غزل کہہ رہاہے۔اُس نے غزل کو غزل سمجھ کر کہا ہے، اُس کی کوملتا پر حرف نہیں آنے دیا۔ اُس کے ہاں غزل اپنے پورے حسن، نزاکت اور لطافت کے ساتھ جلوہ ریز ہے۔ میں اِسے خالص غزل کا نام دوں گا کہ کاشف حسین غائر نے غزل میں زیادہ موضوعاتی تجربات کرنے کی بجائے اس…

Read More

تاج الدین تاج … انداز محبت کو سمجھتے ہی نہیں ہو

انداز ِمحبت کو سمجھتے ہی نہیں ہو تم یار کی عادت کو سمجھتے ہی نہیں ہو پھر کیسے کرو گے مری وحشت کا مداوا تم جب مری وحشت کو سمجھتے ہی نہیں ہو باتیں تو بغاوت کی بہت کرتے ہو لیکن دستورِ بغاوت کو سمجھتے ہی نہیں ہو تم اہل محبت ہو فقط خوگرِ نقصان تم لوگ تجارت کو سمجھتے ہی نہیں ہو کیا تم یونہی انجان بنے بیٹھے ہو مجھ سے؟ کیا تم مری حالت کو سمجھتے ہی نہیں ہو؟ عورت کو سمجھتے ہو فقط اپنی ضرورت عورت کی…

Read More