مجھے نیا طلسم دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدائے دل! مجھے بتا، میں کیا کروں کہ راز مجھ پہ ہوں عیاں کہ رنگ مجھ پہ کِھل اٹھیں ہو وقت مجھ پہ مہرباں مرے یہ پائوں راہ کی تپش سے اب جھلس گئے مری نظر بھی تھک گئی مجھے ملا نہیں نہالِ سبز کا کوئی نشاں نہ شہر میں کوئی صدائے آشنا نہ صبحِ دلبری، نہ شامِ دوستاں مرا نصیب سو چکا مرا طلسم کھو چکا خدائے دل!
Read MoreTag: best urdu poetry
بانی
شب، کون تھا یہاں جو سمندر کو پی گیا اب کوئی موجِ آب نہ موجِ سراب ہے
Read Moreمہلت ۔۔۔۔۔۔۔ نعیم رضا بھٹی
مہلت ۔۔۔۔۔ سرِ مثرگاں ابد آثار امیدوں کا سیلِ خوش نگاہی بہہ رہا ہے اور میں مہلت کی خواہش کے کٹاؤ سے ذرا آگے ارادوں کے حقیقی بانجھ پن کی گونج سنتا ہوں یہیں تم تھے یہیں میں تھا مگر اب راکھ اڑتی ہے تمھارے حسن کی جولاں مری عجلت کی سرشاری کبھی وقفے کی بیزاری بدن کی ساکھ جھڑتی ہے مجھے بوسیدہ فکر و قدر کی شہہ پر دماغوں کی فنا کا مرثیہ لکھنا تھا، لیکن میں نے ہنستی مسکراتی نظم لکھی ہے
Read Moreشناور اسحاق ……. سینہ سینہ سانسوں کے بٹوارےچلتے رہتے ہیں
سینہ سینہ سانسوں کے بٹوارےچلتے رہتے ہیں آشاؤں کے سندر بن میں آرے چلتے رہتے ہیں صدیاں اپنی راکھ اُڑاتی رہتی ہیں چوراہوں میں مَٹّی کی شَریانوں میں اَنگارے چلتے رہتے ہیں خاک نگرسے آنکھوں کاسنجوگ بھی ایک تماشا ہے آنکھیں جلتی رہتی ہیں، نظّارے چلتے رہتے ہیں دَر اَندازی کرنے والی آنکھیں رسوا ہوتی ہیں اَور جھیلوں میں جھالر دار شِکارے چلتے رہتے ہیں دنیا اپنے بازاروں میں ہاتھ ہِلاتی رہتی ہے اپنے دھیان کی گلیوں میں بنجارے چلتے رہتے ہیں
Read Moreاحمد مشتاق
ہر نئے چہرے کے ساتھ اک آرزو جاتی رہی گم ہوئیں چیزیں مری نقل مکانی میں بہت
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ او ستم گر! تو بڑا دشمنِ جاں ہے سب کا
او ستم گر! تو بڑا دشمنِ جاں ہے سب کا کوئی بھی زخم سے چیخا تو زیاں ہے سب کا ہے تو اک شخص کے ہونٹوں پہ ترا قصّۂ غم شاملِ قصّہ مگر دودِ فُغاں ہے سب کا آ بھی جاتے ہیں اِدھر بیتی رُتوں کے جھونکے اب یہی خانۂ غم کنجِ اماں ہے سب کا اک چمک سی نظر آ جائے، تڑپ اٹھتے ہیں حسن کے باب میں ادراک جواں ہے سب کا ایک اک شخص ہے ٹوٹا ہوا اندر سے یہاں کیا چھپائے گا کوئی، حال عیاں ہے…
Read Moreایک عورت …… میرا جی
ایک عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُر میٹھے ہیں ، بول رسیلے، گیت سنانے والی تُو، میرے ذہن کی ہر سلوٹ میں پھیلی نغمے کی خوشبو، راگنی ہلکے ہلکے ناچے جیسےآنکھوں میں آنسو! میرے دل کا ہر اک تار بن کر نغمے کی اک دھار ظاہر کرتا ہے تیرے پازیبوں کی مدھم، موہن مستی لانے والی جھنکار! تیرے دامن کی لہریں ہیں یا ہے مسلا مسلا گیت، یا ہے بھولے دل کی پہلی ،ننھی ، نازک، ناداں پیت، سادہ سادہ لیکن پل میں سب کے دل پر پائے جیت! میرے دل کا ہر…
Read Moreقلندر بخش جرات
گھر سے وہ جاوے جہاں میں بھی وہیں ہوں موجود نہیں معلوم مجھے کون بتا دیتا ہے
Read Moreظہیر کاشمیری ۔۔۔۔۔۔ یہ کاروبارِ چمن اس نے جب سنبھالا ہے
یہ کاروبارِ چمن اُس نے جب سنبھالا ہے فضا میں لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے ہجومِ گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو! زمینِ صحنِ چمن آج بھی جوالا ہے ہمارے عشق سے دردِ جہاں عبارت ہے ہمارا عشق، ہوس سے بلند و بالا ہے سنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئی اسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہے ظہیر، ہم کو یہ عہدِ بہار راس نہیں ہر ایک پھول کے…
Read Moreگاؤں کی دہلیز پر ۔۔۔۔۔ ظفر گورکھپوری
گاؤں کی دہلیز پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سماں میری یادوں میں محفوظ ہے گاؤں سے مَیں چلا میری ماں اور رشتے کی کچھ بھابھیاں کچھ بڑی بوڑھیاں کچھ اڑوسی پڑوسی چھوڑنے آئے تھے گاؤں کی آخری حد پہ امرود کے باغ تک آبدیدہ تھے سب اپنی امی کی بانہوں سے تم ہمک کر مری گود میں آ گئے تھے مسکراہٹ میں برفی گھلی تھی اور معصوم "غوں غاں” کہ تالاب…
Read More