سلام میدانِ کربلا میں جو پیاسا حسین ہے دشمن کئی ہزار ہیں تنہا حسین ہے دو پھول خوش اصول ہیں باغِ رسولؐ کے اک خوش ادا حسن ہے تو دوجا حسین ہے اے خاکِ کربلا ترے ذروں کو چوم لوں تجھ پہ وطن سے دوری میں ، تڑپا حسین ہے میرا ہے یہ عقیدہ ، کہوں گا میں برملا سارے عدو ہی جھوٹے ہیں سچا حسین ہے خلدِ بریں میں شان ہے کیا شان آپ کی سب جنتی براتی ہیں دولھا حسین ہے چشمِ فلک تو دیکھ ، ہے زندہ…
Read MoreTag: Urdu Critics
خاور اعجاز ۔۔۔ ڈھکوسلے
ڈھکوسلے پانی بھر کر لائی ناری سر پر بوجھ اُٹھا مٹکے پر بیٹھا کوّا اور مٹکا دیا گِرا سیج پہ بیٹھی عورت دیکھے مورکھ کا چہرا آنکھوں میں لہراتے بادل ! دِل کی پیاس بجھا ایک ستارہ اُفق کنارے دیکھے ہے رَستا کھڑکی کھول کے بیٹھی جوگن پردہ ذرا ہٹا لڑکی ڈھونڈ رہی تھی کچھ دِن سے جنگل میں جا ساون کی پہلی بارش نے رستہ دیا دِکھا گوری نے ساجن کی خاطر دامن لیا جلا ہنڈیا چولہے پر رکھی اور پنکھا دیا چلا
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreالتباس ۔۔۔ شناور اسحاق
التباس شناور اسحاق DOWNLOAD
Read Moreقادر نامہ ۔۔۔ بچوں کے لیے غالب کی ایک نایاب کتاب ۔۔۔ مرتبہ : ڈاکٹر محمود الرحمن
قادر نامہ غالب DOWNLOAD
Read Moreآنس معین کا والدین کے نام آخری خط
شاعرِ کرب آنس معین کا والدین کے نام آخری خط زندگی سے زیادہ عزیز امی اور پیارے ابو جان خدا آپ کو ہمیشہ سلامت اور خوش رکھے میری اس حرکت کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ میں زندگی کی یکسانیت سے اکتا گیا ہوں ۔کتابِ زیست کا جو صفحہ الٹتا ہوں اس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحے پر پڑھ چکا ہوتا ہوں ۔اس لیے میں نے ڈھیر سارے اوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جو آخری صفحے پر لکھی…
Read Moreاکرم کُنجاہی … شہر آشوب
شہر آشوب ………. طہارت دل کے کعبوں کی مٹی جاتی ہے یارب کوئی دل تو مقدس ہو کہ جس میں انسانوں کی الفت شمع کی صورت فروزاں ہو مگر ستم ہے کہ جتنے دل ہیں وہ دل سیاہ ہیں دماغ سارے کدورتوں کی اماجگاہ ہیں دکھی دلوں کی جو بے بسی کو نویدِ فتح مبین سمجھیں چبھن ہے کانٹوں سی بانجھ سوچوں کی کھیتیوں میں کون فردِ عمل کو دیکھے کہ جاہلوں کی زباں سچائی کا ہے صحیفہ حسن و خوبی معیار کیسا چھپا دئیے ہیں اندھیرے پردوں میں کور…
Read Moreعابد سیال
کرید اور ذرا ممکنت کی درزوں کو پکارتا ہے جو پیہم تو ہے کہیں نہ کہیں
Read Moreرضوان احمد : صادقین: "تصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نے”
بائیس سال کا عرصہ ہو گیا، صادقین کے انتقال کو مگر نہ ان کے مصوری کے نمونوں کا رنگ دھندلا ہوا ہے اور نہ ان پر وقت کی گرد جم سکی ہے۔ اور یہ تصاویر دھندلی ہو بھی نہیں سکتیں، اس لیے کہ انہوں نے اس میں اپنے خون جگر کی آمیزش کر دی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں تہہ در تہہ نئی معنویت پیدا ہوئی ہے اور جتنا وقت گزرے گا یہ معنویت اور بھی دبیز ہو جائے گی،کیوں کہ صادقین کا آرٹ وقت کے ہاتھوں زیر…
Read Moreرضوان احمد ۔۔۔ بانی ( نئی غزل کی منفرد آواز)
یہ کہنا تو شاید قبل از وقت ہو گا کہ بانی غزل میں ایک نئی روایت کے بانی تھے، مگر یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اردو غزل کی کلاسیکی روایات سے انحراف کیا تھا۔ بانی کی غزل خود ہی اس حقیقت پر دال ہے: محراب نہ قندیل نہ اسرار نہ تمثیل کہہ اے ورقِ تیرہ، کہاں ہے تری تفصیل آساں ہوئے سب مرحلے ایک موجہٴ پاسے برسوں کی فضا ایک صدا سے ہوئی تبدیل مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے اک اور ذات میں ڈھلتا ہوا…
Read More