آرزو لکھنوی

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی

Read More

ریاض خیر آبادی

میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی میں بھی اچھا مری قسمت بھی نہایت اچھی

Read More

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

نظامِ عالمِ فرقت خلافِ قدرت تھا نہ ماہتاب ہی نکلا نہ آفتاب آیا

Read More

بیدم شاہ وارثی

اب دل کی لاج مشقِ تصور کے ہاتھ ہے شیشہ میں اس پری کو چلا ہے اُتارنے

Read More

شاد عظیم آبادی

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…

Read More

سید آلِ احمد

کس نے کہا تھا کھیل رچاؤ خلا میں تم کیوں ہاتھ مل رہے ہو اگر کٹ گئی پتنگ

Read More

نجیب احمد ۔۔۔ ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو!

ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو! کیا مرے ساتھ سمندر میں اتر سکتے ہو؟ نیند کے شہر سے گزرو تو اجازت ہے تمھیں خواب کی گلیوں میں کچھ دیر ٹھہر سکتے ہو حسنِ توقیر سے رکھنا ہیں خد و خال تہی رنگ رُسوائی کا تصویر میں بھر سکتے ہو منصبِ عشق طلب کرتے ہو کس برتے پر کیا کسی کے لیے جی سکتے ہو؟ مر سکتے ہو؟ کیا کہوں ، شہرِ قناعت میں ہے برکت کتنی مختصر یہ کہ بسر چین سے کر سکتے ہو دُکھ اسیری…

Read More

احمد فاروق ۔۔۔ صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں

غزل​ صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں سرِ را ہے تو ہے ، سرِ را ہے میں ہوں لبِ جو سوختۂ شبِ ما ہے میں ہوں نظرے ! باہمہ حالِ تبا ہے میں ہوں تری رفتار کا مارا ہوا تیرا اسیر اُمڈ اے موجۂ زُلفِ سیا ہے ! میں ہوں اُسی دیوار کے سائے تلے گریہ کناں گہے گاہے تو ہے ، گہے گاہے میں ہوں مجھے معلوم ہے کوئی نہیں آئے گا مگر ایسا ہے کہ چشم برا ہے میں ہوں

Read More

حسن عباس رضا

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے

Read More