اعتراف ۔۔۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے قصور اپنا ہے چاند کو چھونے کی تمنا کی آسماں کو زمین پر مانگا پھول چاہا کہ پتھروں پہ کھلے کانٹوں میں کی تلاش خوشبو کی آگ سے مانگتے رہے ٹھنڈک خواب جو دیکھا چاہا سچ ہو جائے اس کی ہم کو سزا تو ملنی تھی
Read MoreMonth: 2020 مارچ
ارشد عباس ذکی …… میں اداس ہوں، مرے مہرباں! میں اداس ہوں
میں اداس ہوں، مرے مہرباں! میں اداس ہوں تو کہیں نہیں ہے، تو ہے کہاں ؟ میں اداس ہوں! میرا شہرِخواب تو ریزہ ریزہ بکھر چکا کہیں کھو گئی میری کہکشاں، میں اداس ہوں مرے ہاتھ خالی ہیں، دل شکستہ ہے، آنکھ نم مرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ماں! میں اداس ہوں! یہ جو جنگ ہے کسی اور وقت پہ ٹال دیں صفِ دوستاں! صفِ دشمناں! میں اداس ہوں تمہیں عمر بھر کا ہے تجربہ، کوئی مشورہ! کوئی مشورہ، اے شکستگاں! میں اداس ہوں میں عجیب ہوں، نہیں! مختلف،…
Read Moreانشاء اللہ خان
نہ چھیڑ، اے نکہتِ بادِ بہاری! راہ لگ اپنی تجھے اٹھکیلیاں سوجھیں(سوجھی) ہیں، ہم بے زار بیٹھے ہیں
Read Moreبانی ۔۔۔۔ وہ مناظر ہیں یہاں، جن میں کوئی رنگ نہ بو،بھاگ چلو
وہ مناظر ہیں یہاں، جن میں کوئی رنگ نہ بو،بھاگ چلو جاتے موسم کی فجا ہے، کہیں مانگے نہ لہو، بھاگ چلو کوئی آواز پسِ در ہےنہ آہٹ سرِ کُو، بھاگ چلو بے صدائی کا وہ عالم ہے کہ جم جائے لہو، بھاگ چلو یہ وہ بستی ہے جہاں شام سے سو جاتے ہیں سب اہلِ وفا شب کا سنّاٹا دکھائے گا عجب عالمِ ہو، بھاگ چلو کیا عجب منظرِ بے چہرگی ہر سمت نظر آتا ہے ہر کوئی، اَور کوئی ہے، نہ یہاں میں ہے نہ تُو، بھاگ چلو…
Read Moreاے دل ِ بے تاب ٹھہر ۔۔۔ فیض احمد فیض
اے دلِ بے تاب! ٹھہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرگی ہے کہ اُمنڈتی ہی چلی آتی ہے شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے رات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دو یہی تاریکی تو ہے غازہء رُخسارِ سحر صبح ہونے ہی کو ہے، اے دلِ بیتاب! ٹھہر ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردہء ساز مطلق الحکم ہے شیرازہء اسباب ابھی ساغرِ ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں لغزشِ پا میں…
Read Moreمیرزا محمد رفیع سودا
طلب نہ چرخ سے کر نانِ راحت، اے سودا پھرے ہے آپ یہ کاسہ لیے گدائی کا
Read Moreظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ غلط آغاز کا انجام، پیارے! سوچ لینا
غلط آغاز کا انجام، پیارے! سوچ لینا کھڑے ہو تم تباہی کےکنارے، سوچ لینا جو رُت بدلی تو اُڑ جائیں گے یہ پلکوں سے اک دن پرندوں کی طرح ہیں خواب سارے، سوچ لینا کہیں چکرا نہ جائو تم، یہ ہے تہذیبِ دریا کہ اک رُخ پہ نہیں بہتے ہیں دھارے، سوچ لینا کھلونے بیچنے والوں کی صورت میں ہیں ڈاکو اُٹھا لے جائیں گے بچے تمھارے، سوچ لینا گھنے شہروں سے اکتا کر بنانا چاہتے ہو نیا سا گھر سمندر کے کنارے، سوچ لینا گزر جائے گی اک دنیا…
Read Moreخلاء ۔۔۔۔۔ حمایت علی شاعر
خلاء ۔۔۔۔ خود فریبی کا اِک بہانہ تھا آج اُس کا فسوں بھی ٹوٹ گیا آج کوئی نہیں ہے دور و قریب آج ہر ایک ساتھ چھوٹ گیا چند آنسو تھے بہہ گئے وہ بھی دل میں اِک آبلہ تھا، پھوٹ گیا اب کوئی صبح ہے نہ کوئی شام روشنی ہے نہ تیرگی ہے کہیں اُس کا غم تھا تو کتنے غم تھے عزیز وہ نہیں ہے تو آسماں نہ زمیں ہر طرف ایک ہو کا عالم ہے سوچتا ہوں کہ مَیں بھی ہوں کہ نہیں
Read Moreمیر تقی میر
وجہ ِ بے گانگی نہیں معلوم تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں
Read Moreصبا اکبر آبادی ۔۔۔ شمع کا نور عارضی ہے میاں
شمع کا نور عارضی ہے میاں روشنی دل کی روشنی ہے میاں ماہیت پر کسی کی غور نہ کر جو نظر آئے بس وہی ہے میاں بے سبب انتظار ہے تیرا ایک عادت سی ہو گئی ہے میاں میری دنیا میں اور سب کچھ ہے بس فقط آپ کی کمی ہے میاں اب وہ آرایشِ کلام کہاں؟ اب تو باتوں میں سادگی ہے میاں میر صاحب بتا گئے سب کو تیرے لب کی جو نازکی ہے میاں مے کدے بند ہو گئے جب سے مستقل دورِ سرخوشی ہے میاں ہمیں…
Read More