احمد حسین مجاہد …… مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا

مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا اک بار تو خود اپنی طرف میرا شک گیا سایہ تھا اُس پہ وصل کی خواہش کے خوف کا میں نے چھوا تو غنچہ ٔ نو رَس چٹک گیا دیتی وہ کیا جواب مرے اشتعال کا بس یہ ہوا کہ شانے پہ آنچل ڈھلک گیا چاروں طرف سے خون کے چشمے ابل پڑے سایہ مرے وجود کے اندر سرک گیا میری بھی تھوڑی حوصلہ افزائی ہو گئی جاتے ہوئے وہ میرا بھی شانہ تھپک گیا احمدؔ میں پہلے عشق کو سمجھا تھا…

Read More

پسِ ساخت …… عنبرین صلاح الدین

پسِ ساخت …………. باریکی سے لفظوں کی ترتیب لگاتے، ہاتھ کے پیچھے چُھپ کر دُنیا دیکھتے مِشکن! ایک کتاب میں چھپ کر رہنا اچھا ہوتا ہے دِلچسپی سے تم پر باتیں کرتی دُنیا تم کو لفظوں سے حرفوں میں، حرفوں سے اِمکان کے لمحوں میں تقسیم کیے جاتی ہے کیا اِس خال و خد کے ٹکڑے کر دینے سے، یہ انبوہ سوالوں کا اور اِن کا خلا بھی مِٹ جائے گا؟ مِشکن، تم اِک لفظ نہیں ہو تم تو لفظ کے پیچھے چُھپ کر دُنیا دیکھنے والی آنکھ ہو لفظوں…

Read More

انور شعور

خود ذہن میں رہ جاتی ہیں کچھ کام کی باتیں دانستہ کوئی بات کبھی یاد نہیں کی

Read More

عابد سیال

لکھنا ہے میں نے لہرتے پانی پہ اُس کا نام اُس نے مری شبیہ بنانی ہوا میں ہے

Read More

سرِبازار ماضی ۔۔۔۔۔۔۔ یونس متین

سرِبازار ماضی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر شب ِہجراں چلی پھر شبِ ہجراں چلی گہنے پہن کر درد کی مشاّطگی سے تابناک اپنے ژولیدہ سوالوں کی طرف شرم آگیں زندگی کے اُن حوالوں کی طرف حافظے کی قید میں ہیں جو ابھی جو ابھی تاریخ کے دیوارو در پر درج ہیں یہ عجوزہ ہڈیوں کے کوسنے سہتی ہوئی تین سو سالوں سے جیتی آرہی ہے درد کے انبوہ پر تین سو سالوں کے ہاتھ تین سو ہاتھوں کے سال رینگتے ہیں اس کی زلف و چشم و لب پر بار بار روح میں…

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔۔۔ خواب پھولوں کے دیکھتی دیوار

خواب پھولوں کے دیکھتی دیوار اس کے گھر تک پہنچ گئی دیوار کون آیا اجاڑ آنگن میں جی اٹھی ہے گری پڑی دیوار در بنایا گیا تھا اُس کے لیے اور در کے لیے بنی دیوار تُو نہیں ہے تو اب تری تصویر دیکھتی ہے گھڑی گھڑی دیوار پوچھتے ہو کہ ان کہی کیا ہے تم نے دیکھی نہیں کوئی دیوار! اپنی قسمت پہ ناز کرتی ہے اس کی دیوار سے ملی دیوار بات ایسی کوئی تو ہے اس میں اس سے مل کے چمک اٹھی دیوار کوئی تھامے کھڑا…

Read More

بانی ۔۔۔۔۔ سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف

سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف مری ایک ذاتِ دگر کی طرف بھرے شہر میں اک بیاباں بھی تھا اشارہ تھا اپنے ہی گھر کی طرف مرے واسطے جانے کیا لائے گی گئی ہے ہوا اک کھنڈر کی طرف کنارہ ہی کٹنے کی سب دیر تھی پھسلتے گئے ہم بھنور کی طرح کوئی درمیاں سے نکلتا گیا نہ دیکھا کسی ہم سفر کی طرف تری دشمنی خود ہی مائل رہی کسی رشتۂ بے ضرر کی طرف رہی دل میں حسرت کہ بانی چلیں کسی منزلِ پُر خطر کی طرف

Read More

ایک خواب ۔۔۔۔۔۔ خورشید رضوی

ایک خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ اگر تم ہوں تو پھر ہم ہنستے ہنستے، چلتے چلتے، دور آکاش کی حد تک جائیں کالی کالی سی دلدل سے تپتا تانبا پھوٹ رہا ہو مکڑی کے جالے کا فیتہ کاٹ کے ہم اُس باغ میں جائیں جس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو کوکنار کے پھول کِھلے ہوں بھنورے اُن کو چوم رہے ہوں پتھر سے پانی چلتا ہو مَیں پانی کا چُلّو بھر کر  جب ماروں چہرے پہ تمھارے پہلے تم کو سانس نہ آئے اور پھر میرے ساتھ لپٹ کر ایسے چھوٹے…

Read More

شہزاد نیر

میں تو خود پر بھی کفایت سے اُسے خرچ کروں وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

Read More

شاہ حاتم

تمھارے غنچہ لب کے شوق میں گلشن کی سب کلیاں چمن میں سن خبر آنے کی استقبال کو چلیاں

Read More