نذرانہء نعت روشنی کا سلسلہ ہے آپ کی دہلیز پر بابِ گریہ کھل گیا ہے آپ کی دہلیز پر دل پہ اک آنسو گرا ہے یا مرا احساس ہے اک دیا سا جل اٹھا ہے آپ کی دہلیز پر اسمِ احمد ہے زباں پر روح تک سرشار ہے درد کا کیا ذائقہ ہے آپ کی دہلیز پر پاؤں زخمی ہوکے بھی گردش میں ہیں رکتے نہیں کس بلا کا حوصلہ ہے آپ کی دہلیز پر پھول، خوشبو، رنگ، تتلی، رات، جگنو، صبح و شام جو بھی ہے، محوِ ثنا ہے…
Read MoreTag: بہترین اشعار
طارق بٹ … دل کی رفتار زلزلائی ہوئی
دل کی رفتار زلزلائی ہوئیاپنے قدموں پہ ڈگمگائی ہوئی درد نے طرز ہے بنائی ہوئییہی بندش ہے دل کو بھائی ہوئی سوز خوانی نہ سنیو سینے کیآنکھ مت دیکھ ڈبڈبائی ہوئی لمحہ لمحہ ، کریدتا گزراآہ : دیوار جاں یہ ڈھائی ہوئی لاؤ اب ساخت کوئی دل کی نئیبے دھڑک سی نپی نپائی ہوئی
Read Moreکاشف مجید ۔۔۔ دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا
دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا ہمیں پکارا گیا اور بہت پکارا گیا ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے اِدھر چراغ بجھا اور اُدھر ستارا گیا بہت خلوص سے تونے عطا کیا تھا جو وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا عجیب جنگ یہاں پر لڑی گئی جس میں نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کوئی مارا گیا مجھے خبر ہے وہ میری طرف بھی دیکھتا تھا مجھے خبر ہے مگر میں نہیں دوبارا گیا
Read Moreیونس خیال
پھر کسی آدمی کی آمد تھی پھر فرشتوں پہ خوف طاری تھا
Read Moreنذیر قیصر
ستارہ ایک سرائے پہ آ کے ٹھیر گیا دعا تمام ہوئی، راستہ تمام ہوا
Read Moreذوالفقار نقوی … حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا
حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا ان بجھی آنکھوں سے ہو گا بھی گزارا کتنا رنگ بھر لائے ہو تصویر میں اتنے ،لیکن اس میں احساس کی نگری کا ہے گارا کتنا سر پہ ہر روز نئی اینٹ ہے لادی جاتی تو نے اے یار! مرا بوجھ اتارا کتنا شہر تَو روز چلی جاتی ہے غازہ مَل کر جانِ من! میرے لئے خود کو سنوارا کتنا ڈوبنے والے نے موجوں سے بس اتنا پوچھا یہ بتا دو کہ ہے اب دور کنارہ کتنا مسئلہ اتنا بڑا تو نہیں تھا…
Read Moreآصف شفیع
مَیں چپ ہوں اب اُسے کیسے بتاؤں کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
Read Moreآصف شفیع … صدیوں سے اجنبی
صدیوں سے اجنبی ……………………. اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوئوں سے بھرا بدن اس کا دل کو بھاتا تھا بانکپن اُس کا شعلہ افروز حسن تھا اُس کا دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ہو جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے ساتھ میرے چلو گی تم کب تک مجھ سے قسمیں اُٹھا کے…
Read Moreعمران اعوان
سانس لینا محال ٹھہرا ہے تیری محفل میں لوگ اتنے ہیں
Read Moreعمران اعوان ۔۔۔ ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں
ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں اسطرح زندگی گزار نہیں تو نے ہر بار جھوٹ بولا ہے تیری باتوں کا اعتبار نہیں تو یہاں وقت پاس کرتا ہے مجھ کو معلوم ہے یہ پیار نہیں تیرا ہر سال اک کہانی ہے میرا لمحوں میں بھی شمار نہیں میں پسِ بام دیکھ سکتا ہوں صرف آنکھوں پہ انحصار نہیں تیری آنکھوں میں ہو بھی سکتا ہے میرے چہرے پہ تو غبار نہیں تو مجھے کب کا بھول بیٹھا ہے اور مجھے تیرا انتظار نہیں زندگی سے فرار ممکن ہے ہجر کی…
Read More