لوگ مائل بہ کرم ہیں پھر سے جانے اب کون سی افتاد پڑے
Read MoreTag: غزل
سجاد بلوچ ۔۔۔ کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے
کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے رواں ہے موجِ جنوں پہ احساس کا سفینہ اور ایک تہذیب اس سفینے پہ چل رہی ہے خمارِ خوابِ سحر، یہ دل اور تیری یادیں ہوا دبے پاؤں آبگینے پہ چل رہی ہے ہمارا جانا ہے اور سب کچھ ہے ڈوب جانا یہ زندگی تو ہمارے جینے پہ چل رہی ہے گزر چکا ہے تری جدائی کا سانحہ بھی ہماری دھڑکن نئے قرینے پہ چل رہی ہے
Read Moreغالب ۔۔۔ شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا
شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا بہ فیضِ بے دلی، نومیدئ جاوید آساں ہے کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا ہوائے سیرِگل، آئینۂ بے مہرئ قاتل کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے
چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے جلانے تھے بجھا دینے سے پہلے میاں کیا لازمی تھا خاک اُڑانا کسی کو راستا دینے سے پہلے نسیمِ صبح کو آیا پسینہ خزاں کو بد دعا دینے سے پہلے ملا سکتے ہو کیا ہم سے نگاہیں بغاوت کی سزا دینے سے پہلے مناسب ہے کہ پڑھ لی جائے تختی کسی در پر صدا دینے سے پہلے ہمارا ہارنا طے ہو چکا تھا تمھارے ہاتھ اٹھا دینے سے پہلے سخی مشہور تھے ہم بھی مظفرؔ مگر سب کچھ لٹا دینے سے پہلے
Read Moreیزدانی جالندھری
یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ دیکھے نہیں چراغ بصارت نے میرے خواب
ڈاکٹرغفور شاہ قاسم ۔۔۔ مجید امجد:سفاک تنہائیوں کا شاعر
مجید امجد ۔۔ سفاک تنہائیوں کا شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایذرا پاؤنڈ کا کہنا ہے: ’’شاعری وہ تنہا شخص کرتا ہے جس کی خاموشی اور تنہائی ناقابلِ برداشت ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ پاؤنڈ کی یہ بات بڑی جامعیت اور موزونیت کے ساتھ مجید امجد کی شخصیت اور شاعری کا احاطہ کرتی ہے۔ مجید امجد کے شب و روز کا مطالعہ کیا جائے اور واقعاتِ حیات کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ پیدائش سے لے کر وفات تک وہ الم ناک حادثات سے دوچار ہوتے…
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
طریقِ عشق میں علم و ہنر سب رائیگاں دیکھا یہ نقشِ زر زمانے میں پئے تسخیر بہتر ہے
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔ جنبشِ ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں
جنبشِ ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں ان دنوں گردشِ حالات میں آئے ہوئے ہیں اب جو تو چاہے، جہاں چاہے ہمیں لے جائے کیا کریں ہم جو ترے ہاتھ میں آئے ہوئے ہیں میں اکیلا ہی نہیں آیا تجھے دیکھنے کو کچھ ستارے بھی مرے ساتھ میں آئے ہوئے ہیں اے مہِ چار دہم تیری خوشی کی خاطر اِک سیہ رات کی بہتات میں آئے ہوئے ہیں میں بھی دن رات یہاں کوزہ گری کرتا ہوں اُس کے سب رنگ مِری ذات میں آئے ہوئے ہیں عشق خود…
Read Moreشناور اسحاق ۔۔۔ نہ مو قلم، نہ پرندے، نہ چشمِ نم مرے بعد
نہ مو قلم، نہ پرندے، نہ چشمِ نم مرے بعد رکھے گا کون ترے باغ میں قدم مرے بعد ہوائے شام! تری بازگشت مجھ تک ہے کرے گا کون مرے رفتگاں کا غم مرے بعد مگر یہ رقص، بغیرِ کمان و تیر و تبر رہے گی شہرِ غزالاں میں رسمِ رَم مرے بعد بہت قدیم سر و کار جائے گا مرے ساتھ پیے گا کون تری بے رخی کا سم مرے بعد جنوں میں صحو، خبر میں حلولِ بے خبری یہ ساز و رخت نہ ہو گا کبھی بہم مرے…
Read More