کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read MoreTag: Karwaan
خورشید رضوی
وہ آ گیا تو جیسے سبزے میں جان آئی دوڑی رَمق ہَوا کی ساکت صنوبروں میں
Read Moreغلام حسین ساجد…… ماورائے سراغ ہوں مَیں بھی
ماورائے سراغ ہوں مَیں بھی کوئی رنگِ فراغ ہوں مَیں بھی فخر ہے اپنی کم نمائی پر اپنے ہونے پہ داغ ہوں مَیں بھی گفتگو کا اُسے سلیقہ نہیں اور بہت بددماغ ہوں مَیں بھی اپنے دشمن کی سرخروئی پر کس لیے باغ باغ ہوں مَیں بھی سبز ہے خاک میرے گریہ سے راحتِ باغ و راغ ہوں مَیں بھی رات پڑتی نہیں جہاں ساجد اُس گلی کا چراغ ہوں مَیں بھی ………………………… مجموعہ کلام : ہست و بود مطبوعہ: اکتوبر ٢٠١٨ء رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی
Read Moreکارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد :26, شمارہ: 9
Download کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد 26, شمارہ 9
Read Moreتوقیر عباس
تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
Read More