Tag: Karwaan
میر غلام بھیک نیرنگ
ابھی تشخیصِ مرض میں ہے طبیبوں کو کلام جاں ادھر درپئے رخصت ہے، خدا خیر کرے
Read Moreایوب خاور ۔۔۔ حسب نسب خاک ہو رہے ہیں (نعتیہ)
جعفر بلوچ ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا مجھ کو زندہ بھی دفنایا جا سکتا تھا چڑیوں کی آواز نہ کانوں تک آ سکتی گھر میں اتنا شور مچایا جا سکتا تھا جب تک برف پگھلتی یا برکھا رُت آتی دریا اور بھی کام میں لایا جا سکتا تھا تم نے اپنا رستہ خود روکا تھا، ورنہ تم جب آنا چاہتے، آیا جا سکتا تھا چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جا سکتی تھیں ہنستے ہنستے غم اَپنایا جا سکتا تھا کتنا ہی مصروف تھا پھر بھی اپنی خاطر تھوڑا سا تو وقت…
Read Moreجب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
جب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا دریا کے باہر بھی دھارا ہو سکتا تھا اِک دیوار گرانے، اِک پردہ اُٹھنے سے اندر باہر ایک نظارہ ہو سکتا تھا تاریکی کی قسمت بدلی جا سکتی تھی ہر بستی میں ایک ستارہ ہو سکتا تھا قریہ قریہ خاک اُڑائی جا سکتی تھی میری آنکھوں کا بٹوارا ہو سکتا تھا جاں دے کر سستے میں جان بچا لائے ہو ورنہ عشق میں اور خسارا ہو سکتا تھا کب تک رستہ خوشبوئوں کا روکے رہتے کب تک اپنا جسم گوارا ہو سکتا…
Read Moreعباس تابش
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق آباد (کلیات) الحمد پبلی کیشنز، لاہور اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء
Read Moreمکان عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا ۔۔۔ حسن عباس رضا
مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا کہ مجھ کو گھر سے نکلتے ہی اُس نے آ لیا تھا میں جانتا تھا کہ ضدی ہے پرلے درجے کا سو، ہار مان کے میں نے اسے منا لیا تھا یہ میرا دل ہے مگر میری مانتا ہی نہیں گذشتہ رات اسے میں نے آزما لیا تھا خبر ملی مجھے جیسے ہی اُس کے آنے کی نگاہ در پہ رکھی، اور دیا جلا لیا تھا جو دل کا حال تھا، ہم نے بڑے سلیقے سے غزل بہانہ کیا اور اُسے سنا…
Read Moreوہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…
Read Moreدعا ۔۔۔ قمر جمیل
دُعا ۔۔۔ یہ دُعا ہے کوئی گلہ نہیں مرے ہم نشیں! مری زندگی وہ گلاب ہے جو کھلا نہیں مَیں یہ سوچتا ہوں، خدا کرے تجھے زندگی میں وہ سکھ ملے جو کبھی مجھے بھی مِلا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: چہار خواب پبلشر: مکتبہ آسی، کراچی اشاعت: ۱۹۸۵ء
Read More