ممتاز نعت گو شاعرمظفر وارثی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غالباً 2010ءکی بات ہے ،میں ان دنوں رائٹرز گلڈ میں ذمہ داریاں سر انجام دے رہا تھا،کسی دوست نے ذکر کیا کہ مظفر وارثی بہت بیمار ہیں ،آپ رائٹرز گلڈ کی جانب سے اکادمی ادبیات کو ان کی امداد کے لیے خط لکھیں،ان دنوں ممتاز لکھاری اور دانشورجناب فخر زمان اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین تھے، میں نے ان سے رابطہ کیا،انہوں نے دس ہزار رپے کا چیک اکادمی کی جانب سے مظفر وارثی کے نام بھجوا دیا۔ میں نے اسی وقت وارثی صاحب…
Read MoreMonth: 2020 اپریل
خورشید رضوی
گھر بناتے ہوئے سیلاب کا سوچا ہی نہ تھا اب سرِ بام ہے بنیاد کا ماتم کیا کیا
Read Moreدل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا ۔۔۔ خورشید رضوی
دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا ایک ساعت کو شب و روز پہ طاری کرنا اب وہ آنکھیں نہیں ملتیں کہ جنھیں آتا تھا خاک سے دل جو اَٹے ہوں، اُنھیں جاری کرنا موت کی ایک علامت ہے، اگر دیکھا جائے روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا تُو کہاں، مرغِ چمن! فکرِ نشیمن میں پڑا کہ ترا کام تو تھا نالہ و زاری کرنا ہوں مَیں وہ لالۂ صحرا کہ ہُوا میرے سپرد دشت میں پیرویٔ بادِ بہاری کرنا اِس سے پہلے کہ یہ سودا مرے سر میں…
Read Moreنیلے پہاڑ ۔۔۔ خورسید رضوی
نیلے پہاڑ ۔۔۔۔۔۔ پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ دُور اُفُق پر آسمانوں سے ملے سبز پیڑوں کی قطاروں سے پَرے پا پیادہ گائوں کی جانب رَواں سادہ دِل اَنجان بڑھیا کی طرح بادلوں کی گٹھڑیاں سر پر رکھے پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ جانے کب قدموں کی زنجیریں کٹیں جانے کب رستے کی دیواریں ہٹیں قفل ٹوٹیں حاضر و موجود کے جانے کب بادل کے رَتھ پر بیٹھ کر بجلیوں کے تازیانے مارتا بارشوں کے پانیوں میں بھیگتا مَیں اڑائوں آندھیوں کے راہوار پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ
Read Moreخورشید رضوی کا ناسٹلجیا ۔۔۔ نوید صادق
خورشید رضوی کا ناسٹلجیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی دن تھے جب ناسٹلجیا کو ایک نفسیاتی بگاڑ جانا جاتا تھا۔ لیکن یہ سترھویں صدی کی باتیں ہیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ اُن دنوں گھر یا وطن سے دوری کو اس بیماری کا سبب جانا جاتا تھا۔ لیکن علمِ نفسیات نے ترقی کے مدارج طے کیے تو صورت حال نے پلٹا کھایا، Home Sickness اور ناسٹلجیا کو ایک دوسرے سے الگ گردانا جانے لگا۔اس شعبہ میں مزید کام ہوا اور ناسٹلجیا کی بابت یہ بات سامنے آئی کہ یہ اچھا بھی ہو سکتاہے…
Read Moreعلی اصغر عباس
لوگ پیڑوں کی طرح مجبور تھے، جھکتے گئے مَیں پرندہ تھا، ہَوا کا سامنا کرتا رہا
Read Moreآسماں سے ستارہ نہیں آئے گا ۔۔۔ سحرتاب رومانی
آسماں سے ستارہ نہیں آئے گا اب کوئی بھی اشارہ نہیں آئے گا ہاتھ آئے گا وہ میرے تھوڑا بہت وہ کسی طور سارا نہیں آئے گا کیوں اِدھر مستقل دھوپ ہی دھوپ ہے کیا اِدھر اَبر پارہ نہیں آئے گا ؟ آئیں گے دوست سارے ہی ملنے، مگر ایک بے اعتبارا نہیں آئے گا یہ سڑک ناک کی سیدھ میں جائے گی اس سڑک پر منارہ نہیں آئے گا میں پرستان لکھتا چلا جاؤں گا جن، پری استعارہ نہیں آئے گا ختم ہو جائے گا یہ سمندر، سحر اِس…
Read Moreابھی لکھیں تو کیا لکھیں ۔۔۔ محسن نقوی
ابھی لکھیں تو کیا لکھیں ۔۔۔۔۔ ہر اِک جانب اُداسی ہے ابھی سوچیں تو کیا سوچیں؟ ہر اِک سُو، ہُو کا عالم ہے ابھی بولیں تو کیا بولیں؟ ہر اِک اِنسان پتھر ہے ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں؟ فضا پر نیند طاری ہے ابھی جاگیں تو کیا جاگیں؟ ہر اِک مقتل کی شہ رَگ میں لہُو کی لہر جاری ہے ابھی دیکھیں تو کیا دیکھیں؟ ہر اِک اِنسان کا سایہ ابھی مٹی پہ بھاری ہے ابھی لکھیں تو کیا لکھیں؟
Read Moreکہانی ۔ ۔ ۔ حامد یزدانی
کہانی ۔۔۔ ’’ کہانی سُنائیے ناں، پاپا! مجھے نیند نہیں آرہی‘‘۔ ’’نہیں آج نہیں بیٹا، بہت تھکن ہو گئی آج تو ۔۔۔‘‘ ’’ کِسے؟ کہانی کو ؟‘‘ ’’ ارے نہیں، مجھے ۔۔۔ دن بھر کی مصروفیات نے تھکا کر رکھ دیا ہے۔ کل سُن لینا کہانی ۔۔۔ ضرور سناؤں گا کل ۔۔۔‘‘ ’’ یہ بات تو آپ نے کل بھی کی تھی ۔۔۔۔ مگر آج سنا نہیں رہے ۔۔۔ بس آج تو میں ۔۔۔‘‘ ’’اچھا، بابا، اچھا ۔۔۔کہو، کون سی کہانی سنو گے ۔۔۔؟‘‘ ’’کوئی سی بھی ۔۔۔‘‘ ’’ پھر…
Read Moreغلام حسین ساجد
شام ہے اور سرخ پیڑوں کے دہکتے سائے ہیں نیند میں بہتا ہوا دھارا ہے جوئے آب کا
Read More