Month: 2020 اپریل
سیّد یزدانی جالندھری، عظیم قریشی، حامد یزدانی، خالد علیم، محمد احمد شاد
غالباً ستّر کی دہائی کے آخر میں بزمِ خلیقِ ادب گوجرانوالا کی محفلِ مشاعرہ میں برصغیر کے مشہور شاعر جناب سیّد یزدانی جالندھری اپنا کلام پیش کر رہے ہیں۔ اسٹیج پر (بائیں جانب سے) سیکرٹری بزمِ تخلیقِ ادب محمد احمد شاد، راقم الحروف خالد علیم (حضرت یزدانی صاحب کی اوٹ میں، کچھ جانے پہچانے سے) ، تین مصرعوں میں نظم ہٹ کردینے والے شاعر عظیم قریشی اور ان کے ساتھ ہی ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، یعنی جناب حامد یزدانی محوِ سماعت ہیں۔ ( خالد علیم)
Read Moreقمر رضا شہزاد، غلام حسین ساجد، حامد یزدانی، محمد خالد، غلام محمد قاصر، لطیف ساحل
قمر رضا شہزاد، غلام حسین ساجد، حامد یزدانی، محمد خالد، غلام محمد قاصر، لطیف ساحل
Read Moreآصف شفیع
عجیب ہوتا ہے آزار نارسائی کا یہ ایسا روگ ہے جس کی کسک نہیں جاتی
Read Moreدل کا ہر ایک ناز اٹھانا پڑا مجھے ۔۔۔ آصف شفیع
دل کا ہر ایک ناز اٹھانا پڑا مجھے اُس بے وفا کی دید کو جانا پڑا مجھے دنیا کو اپنا آپ دکھانے کے واسطے گنگا کو الٹی سمت بہانا پڑا مجھے شہرِ وفا میں چار سو ظلمت تھی اس قدر ہر گام دل کا دیپ جلانا پڑا مجھے صحرا سرشت جسم میں صدیوں کی پیاس تھی دریا کو اپنی سمت بلانا پڑا مجھے دیوانگی کو جب مری رستہ نہ مل سکا سوئے دیارِ عاشقاں جانا پڑا مجھے اقرار کر لیا تھا ہزاروں کے درمیاں سو عمر بھر وہ عہد نبھانا…
Read Moreترے ہمراہ چلنا ہے ۔۔۔ آصف شفیع
ترے ہمراہ چلنا ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے ہمراہ چلنا ہے سفر غم کا زیادہ ہے غموں کی دھول میں لپٹی ہمارے جسم پر لیکن سلگتی جاگتی اور بے ارادہ خواہشوں کا اک لبادہ ہے زمانہ لاکھ روکے مجھ کواس پرہول وادی میں قدم رکھنے سے، لیکن اب پلٹ سکتا نہیں ہرگز کبھی میں اس ارادے سے مجھے معلوم ہے اس راستے پر مشکلیں ہوں گی بگولے وقت کے مجھ کو اُڑا لے جائیں گے ایسے کسی گمنام صحرا میں جہاں ذی روح اشیاء کا وجود اک بے حقیقت استعارے سے زیادہ…
Read Moreصاحبِ گداز: حسین امجد ۔۔۔ فائق ترابی
صاحبِ گداز حسین امجد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعر دراصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اُتر جائیں حسرت کا یہ تصورِ شعر آج کے تجرباتی ادبی رویوں کی موجودگی میں بھی شاعروں کے ایک مخصوص قبیلے کی رگوں میں خون کی مانند گردش کرتا ہے- جنہیں اپنے ضمیر کی آواز کی ترسیل کےلیے کسی بناوٹی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی- اُن کا تصور کسی انفرادی پیمانے اور پیرائے کا اسیر نہیں ہوتا- یہی ان کا انفراد ہوتا ہے- حسین امجد کی نسبت شعرا کے اُسی خانوادے سے ہے جو دل…
Read Moreحمایت علی شاعر
شاید آجائے کوئی تازہ ہوا کا جھونکا مَیں نے اِس آس میں دروازہ کھلا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آگ میں پھول
Read Moreرات کٹ جائے کسی طرح تو بس ۔۔۔ حمایت علی شاعر
رات کٹ جائے کسی طرح تو بس ایک اِک لمحہ ہے ایک ایک برس روح اور جسم میں ہے جنگ کڑی ٹوٹ جائے نہ کہیں تارِ نفس ایسے جینے سے بھلا کیا حاصل زیست میں رنگ ہی باقی ہے نہ رَس اِک ذرا جراتِ پرواز کہ آج سو گئے تھک کے نگہبانِ قفس خامشی بول رہی ہو جیسے دل کی دھڑکن ہے کہ آوازِ جرس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آگ میں پھول
Read Moreتنہا تنہا ۔۔۔ حمایت علی شاعر
تنہا تنہا ۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے ۔۔۔ یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے۔۔۔ میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ ۔۔۔ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ…
Read More