بیاں اُس بزم میں میری کہانی ہو رہی ہے ادائے خاص سے رنگیں بیانی ہو رہی ہے مہک آتی ہے اِک سیلی ہوئی آزردگی کی کوئی شے ہے جو اِس گھر میں پرانی ہو رہی ہے نظر آتے نہیں اَب شام کو اُڑتے پرندے تو کیا اِس شہر سے نقل مکانی ہو رہی ہے؟ بُلاوا آ گیا ہے اب کسے کوہِ ندا سے مری اطراف میں کیوں نوحہ خوانی ہو رہی ہے؟ لبوں پر ہے کسی شیریں دہن کے ذکر میرا خزاں کی شام ہے اور گل فشانی ہو رہی…
Read MoreMonth: 2020 اپریل
ڈیزی کٹر ۔۔۔ غلام حسین ساجد
ڈیزی کٹر ۔۔۔۔ ریت میں ڈھلتے پتھر پانی ہوتی ریت دھند میں چھپتا پانی دھوپ میں جلتی دھند دھوئیں میں گھلتی دھوپ نیند میں بہتا زہر سلگ اٹھے ہیں ایک طلسمی آنچ سے کتنے شہر کون ہے جس نے خواب نگر پر ڈھایا ہے یہ قہر!
Read Moreبدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق
بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…
Read Moreچور لمحہ( افسانے): روحی طاہر…. رضا صدیقی
ڈاکٹر اسحاق وردگ
ہمارے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا وہ اِک بندہ خُدا ہونے سے پہلے
Read Moreاسحاق وردگ ۔۔۔ چاک پر بے بسی بناتا ہوں
چاک پر بے بسی بناتا ہوں یعنی میں زندگی بناتا ہوں باندھ دیتا ہوں دھوپ ساحل پر کشتیاں، موم کی بناتا ہوں نیند سے اور کچھ نہیں بنتا اِس لیے خواب ہی بناتا ہوں سانس ہوتا ہے زندگی کے لیے اِس سے میں خودکشی بناتا ہوں یہ ضرورت ہے شہر والوں کی اِس لیے سادگی بناتا ہوں میری تکمیل ہو نہ جائے کہیں روز خود میں کمی بناتا ہوں حسن، مصرع اٹھانے آتا ہے عشق سے شاعری بناتا ہوں اِس میں سایہ کہاں سے بنتا ہے میں تو دیوار ہی…
Read Moreگم شدہ اذان کے انتظار میں نظم… اسحاق وردگ
گم شدہ اذان کے انتظار میں نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کی قربت میں آباد گائوں (جس کا فطرت سے ازل کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں) سے آتی ہوئی ضعیف بابا جی کی آواز میں صبح کی اذان کی پہلی گونج شہر کی فضائوں میں جلوہ افروز ہوئی تو زمین کے سینے پر وقت نے کروٹ بدلی باباجی نے جسمانی ضعف کے باوجود اپنی روح سے کشیدکیے گئے طلسم سے سانس کا زیر وبم قائم رکھا اور آنسوئوں کی سوغات میں دل سے لب تک اپنی آواز کو با وضو کیا (تاکہ…
Read Moreفراز صاحب(خاکہ) ۔۔۔ اسحاق وردگ
فراز صاحب (خاکہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جسے احمد فراز صاحب سے ملنے،شعر سننے،مکالمہ کرنے،ہاتھ ملانے اور آٹوگراف لینے کے بے شمار مواقع انعام ہوئے۔۔۔! یہ دیارِ ادب میں خوش نصیبی کی اعلا مثال ہے کہ فراز صاحب پشاور میں پلے بڑھے،ادبی اٹھان کی خوش بختی ملی۔۔۔ مجھے بھی اس شہرِ ہفت زبان میں جنم لینے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے اور ان گلیوں میں سانس لینے کے موسم ملے ۔۔۔ آج بھی پشاور کے قہوہ خانوں، ادبی حجروں اور شہر کی قدیم گلیوں میں فراز صاحب کے…
Read More"شہر خالی ، جادہ خالی”۔۔۔۔ تحریر ،تحقیق اور شاعری کا اردو مفہوم : رحمان حفیظ
"شہر خالی ، جادہ خالی” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر ،تحقیق اور شاعری کا اُردو مفہوم : رحمان حفیظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوریجنل گلوکار : امیر جان صبوری ری مکس گائکہ : نگارہ خالووا موسیقی و پیشکش : مشعل یوسفی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالیہ عالمی وبائی شٹ ڈاؤن کے دوران اچانک ایک نغمہ بڑے پیمانے پر سناجانے لگا ہے جس کے بول ہیں ” شہر خالی، جادہ خالی” در اصل یہ نظمیہ کلام کوئی ڈیڑھ دو عشرے پہلے افغانی گلوکار امیر جان صبوری نے لکھا اور گایا تھا لیکن حالیہ مقبول ورژن ری-مکس(Remix) ہے جسے…
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔۔۔۔ دیار ِشوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ
دیار ِشوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ ہم اہل درد پکارے گئے صحیفوں میں ہم اہل عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب کے ساتھ ہوا نے سادھ لی چپ،رات نے دعا مانگی ستارہ سہما رہا بجھتے آفتاب کے ساتھ مکالمہ رہا جاری ہماری آنکھوں کا بدن کی شاخ…
Read More