جاتے ہوئے وہ خود کو یہیں چھوڑ گیا ہے اُس کو تو بچھڑنے کا سلیقہ بھی نہ آیا
Read MoreTag: غزلیں
حزیں صدیقی ۔۔۔ عجب خود آگہی کے مرحلے ہیں
عجب خود آگہی کے مرحلے ہیں ہم اپنے سامنے حیراں کھڑے ہیں مری آنکھیں تو پیاسی ہیں سحر کی ستارے کیوں اُترتے آ رہے ہیں نہیں، یہ خواب کا عالم نہیں ہے یہ سب منظر تو جیتے جاگتے ہیں دیارِ شب کے سنّاٹے میں ہم نے نگارِ صبح کے نغمے سُنے ہیں ابھی کچھ رنگ ہیں دِل بستگی کے ابھی کچھ خواب آنکھوں میں سجے ہیں اُلجھتی جا رہی ہے ذہن کی رَو کہانی میں کئی موڑ آ چکے ہیں یہ سورج کس لیے جلتا ہے دِن بھر ستارے رات…
Read Moreحفیظ جالندھری
مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے سُنا ہے، مَیں کہیں پایا گیا ہوں
Read Moreصابر ظفر ۔۔۔ اک عمر جو ہم نے خون تھوکا
اک عمر جو ہم نے خون تھوکا دل نرم نہیں ہوا کسو کا جب موت کی منتظر ہوں سانسیں دورانیہ ہے وہ کرفیو کا بارود ہے اس قدر سرِ خاک امکان ہی چھن گیا نمو کا بہتر ہے کہ بے طلب ہی جی لو یہ عہد نہیں ہے آرزو کا ہستی ہے ہماری، یاد جس کی وہ ہم کو بھلا چکا کبھو کا حد سے جو گزر رہے ہیں ہم تم حاصل ہے کوئی تو جستجو کا اب تک ہے وہی زبان بندی عالم ہے ہنوز کوئی ہُو کا ڈوبے…
Read Moreظہیر کاشمیری
اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
Read Moreفہمیدہ ریاض ۔۔۔ کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اُس کی سمت کشش عجیب تھی اُس دشت کی صداؤں میں وہ اِک صدا جو فریبِ صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تُند رو ہواؤں میں سکوتِ شام ہے اور مَیں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں مری طرح یونہی گُم کردہ راہ چھوڑے گی تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں نقوش پاؤ ں…
Read Moreمحمود ایاز
در و دیوار کی خموشی نے رات بھر ہم سے کوئی بات کہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوغات شمارہ: 006
Read Moreباقر علی شاہ ۔۔۔ دکھ کا لمحہ آیا ہو گا
دکھ کا لمحہ آیا ہو گا وقت ہی ٹھہرا لگتا ہو گا بے سمتی تقدیر ہوئی ہے تجھ سے ناتا ٹوٹا ہو گا وہ تو یہ گھر بھول گیا ہے کوّا یوں ہی بولتا ہو گا شاید یوں تنہائی کم ہو خود سے باتیں کرتا ہو گا سعئ لا حاصل تھا جینا جانے کب کب سوچا ہو گا ہر شے بے معنی لگتی ہے باقر تھکتا جاتا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہ نامہ شام و سحر، لاہور جولائی ۱۹۹۷ء
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
جی بھر کے دوستوں سے گلے بھی نہ مل سکا کیا جلد قافلے نے کیا ایک بار کوچ
Read Moreباقی احمد پوری ۔۔۔ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺩَﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ، ﺳﺮِ ﺷﮩﺮِ ﺳﺘﻢ ﻧِﮑﻠﮯ
کسی میں دم نہیں اتنا، سرِ شہرِ ستم نکلے ضمیروں کی صدا پر بھی، نہ تم نکلے، نہ ہم نکلے کرم کی ایک یہ صورت بھی ہو سکتی ہے، مقتل میں تری تلوار بھی چلتی رہے اور خوں بھی کم نکلے نہ مَیں واعظ، نہ مَیں زاہد، مریضِ عشق ہوں، ساقی! مجھے کیا عذر پینے میں، اگر سینے سے غم نکلے محبت میں یہ دل آزاریاں اچھی نہیں ہوتیں جسے دیکھو تری محفل سے وہ با چشمِ نم نکلے ستاروں سے پرے کوئی ہمیں آواز دیتا ہے کہیں ایسا نہ…
Read More