کچھ کارِ عناصر تہہِ دریا بھی عجب ہے اِس خاک میں پنہاں کوئی شعلہ بھی عجب ہے دُنیا سے کچھ ایسا بھی نہیں ربط ہمارا سنتے ہیں مگر لذتِ دنیا بھی عجب ہے ہے دل ہی کسی آرزوئے وصل کا مسکن دل کا مگر اس راہ پہ آنا بھی عجب ہے وہ دید ہے اب عالمِ موجود سے آگے اس ساعتِ مسعود کا دھوکا بھی عجب ہے طے ہوتی چلی جاتی ہے بے فیض مسافت اس راہ میں دیوار کا آنا بھی عجب ہے کھلتا نظر آتا ہی نہیں ہے…
Read MoreTag: غزلیں
ڈاکٹر کبیر اطہر
ترے بغیر گزاری ہے زندگی مَیں نے تو اِس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ
Read Moreڈاکٹر اشفاق ناصر ۔۔۔ عکس کو پُھول بنانے میں گزر جاتی ہے
عکس کو پُھول بنانے میں گزر جاتی ہے زندگی آئنہ خانے میں گزر جاتی ہے شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی رُوٹھ گیا اور شب اُس کو منانے میں گزر جاتی ہے ہر محبّت کے لیے دِل میں الگ خانہ ہے ہر محبت اُسی خانے میں گزر جاتی ہے زندگی بوجھ بتاتا تھا، بچھڑنے والا یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے جو گھڑی رکھتے ہیں اِظہارِ محبّت کے لیے وہ گھڑی بات بنانے میں گزر جاتی ہے تو بتا، آنکھ نیا خواب کہاں سے دیکھے روز…
Read Moreڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے
رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے اب تو اُس دیوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں لیکن اِس نادانی سے ڈر لگتا ہے بچتا ہوں میں آئینے سے مجھ کو بھی آنکھوں کی ویرانی سے ڈر لگتا ہے خوف ہے مجھ کو رات گئے تک رونے سے غم کی یاد دہانی سے ڈر لگتا ہے رُت کے ہر طوفان سے ہوں مانوس، مگر بے موسم طغیانی…
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
پانی وضو کو لائو، رُخِ شمع زرد ہے مینا اٹھائو وقت اب آیا نماز کا
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔ میں رقص کرتا ہوا،آئنے بناتا ہوا
میں رقص کرتا ہوا،آئنے بناتا ہوا گزرگیا تری گلیوں سے مسکراتا ہوا یہ خالی گھر ہے یہاں کوئی بھی نہیں رہتا بس ایک سایہ سا پھرتا ہے لڑکھڑاتا ہوا پلٹ کے آیا تو چہرے پہ دن اتر آیا چراغ بن کے گیا تھا جو جگمگاتا ہوا میں دل کی کہتا رہا اس کے روبرو پیہم وہ بات سنتا ہوا اور سر ہلاتا ہوا وہ ہنس رہا تھا کہ اِس میں تو اس کا ذکر نہیں میں روپڑا تھا اسے داستاں سناتا ہوا تمام رات مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا زعیم…
Read Moreمیر مہدی مجروح
مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر اے حضرتِ من! تم نے دل بھی نہ لگا جانا
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔ اِن آتی جاتی رُتوں سے نہیں جڑا ہُوا مَیں
اِن آتی جاتی رُتوں سے نہیں جڑا ہُوا مَیں ترے خیال کے آثار میں ہَرا ہُوا مَیں پہنچ گیا ہوں کسی لاوجود لمحے میں دوامی ساعتوں کے خواب دیکھتا ہُوا مَیں کسی کے دستِ تسلی سے اس لیے ہے گریز کہیں چھلک نہ پڑوں رنج سے بھرا ہُوا مَیں اب انتظار کے پل ختم ہونے والے ہیں پلٹنے والا ہوں اپنی طرف گیا ہُوا مَیں کنارے لگنے ہی والا ہوں تیری یاد سمیت خود اپنی موجِ تماشا پہ تیرتا ہُوا مَیں یہ ممکنات کی دنیا ہے، کچھ بھی ممکن ہے…
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
قیس جنگل میں اکیلا ہے، مجھے جانے دو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
Read Moreعلی ارمان ۔۔۔ جلا تیری تمنّا کا چراغ آہستہ آہستہ
جلا تیری تمنّا کا چراغ آہستہ آہستہ ملا مجھ کو حقیقت کا سراغ آہستہ آہستہ دبے پاؤں یہ دنیا خلوتِ خوں میں اترتی ہے پکڑتا ہے جگہ دل پر یہ داغ آہستہ آہستہ بس اک لچکیلی،شرمیلی،رسیلی نرم ٹہنی سے کھِلا تھا سامنے میرے وُہ باغ آہستہ آہستہ یہ بے معنی سہانی دھڑکنیں آباد رہنے دو کہیں دل بھی نہ ہو جائے دماغ آہستہ آہستہ پرانا شہر نکلا ہے کوئی دل کی کھدائی سے ملے گا اب مجھے خود سے فراغ آہستہ آہستہ خبر تھی اس لیے میں تشنگی میں سر…
Read More