ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…
Read MoreTag: اردو غزل
آغا شاعر
ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے
زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفرخواہش قربِ بدن…
Read Moreباقی احمد پوری … یہ شہر نہیں آسان میاں
یہ شہر نہیں آسان میاں مشکل ہے یہاں گزران میاں اب کیا ہوگا، کل کیا ہوگا اک دھڑکا ہے ہر آن میاں ان گلیوں میں، بازاروں میں دیکھا ہے کوئی انسان میاں بے سود یہاں ہر سود ہوا نقصان پہ ہے نقصان میاں دیوار نہیں اور در بھی نہیں پھر کاہے کو دربان میاں ناممکن سی جو لگتی ہے اس بات کا ہے امکان میاں اس خاک سے خاک ہی نکلے گی یہ خاک تو خود ہی چھان میاں یہ کیسی جنگ مسلط ہے یہ کیسا ہے گھمسان میاں میں…
Read Moreسعید راجہ
اپنی قسمت میں کجی ایک یہی دیکھی ہے سب میسر ہے فقط تیری کمی دیکھی ہے
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سعید راجا
نصابِ حسن و ہدایت پہ بات کی جائے حضورِ پاک کی سیرت پہ بات کی جائے کہ جس کے بعد نہ آئے گا اب نبی کوئی اسی نبی کی نبوت پہ بات کی جائے میں امتی ہوں خدا کے رسولِ ارفع کا مِرے نصیب کی رفعت پہ بات کی جائے کسی کو ضد ہے کہ تفصیل دوں گناہوں کی مُصِر ہوں میں کہ شفاعت پہ بات کی جائے میں واقعہ شبِ معراج کا سناتا ہوں جو اوجِ شانِ رسالت پہ بات کی جائے مِرے نبی کے مدینے سے ہو کے…
Read Moreسعید راجا ۔۔۔ مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا
مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا ازل سے چپ تھا جو فرفر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلب پھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پر میں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مِری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگر وہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اتری مِری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھے جواب میں…
Read Moreذوالفقار نقوی
کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے
Read Moreعزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں
کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…
Read Moreماجدالباقری
فکرِ معاش جسم سے آرام لے گئی جب تھک گیا تو فرش بھی بستر لگا مجھے
Read More