اکرم کنجاہی ۔۔۔ شہناز پروین

شہناز پروین شہناز پروین ہمارے عہد کی ’’خالص افسانہ نگار‘‘ ہیں۔یہ خالص کا لفظ اُن کی تخلیقی ہُنر مندی کو واضح کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے جتنے بھی افسانے لکھے ہیں، وہ ایک صاحبِ اسلوب مصنفہ کے رنگ میں لکھے ہیں۔ اُنہوں نے ادبی منظر نامے میں ہلچل پیدا کرنے یا اپنے قاری پر اپنی ڈکشن یا علمیت کا رعب قائم کرنے کے لیے کہیں زیادہ فلسفیانہ مکالمے لکھے ہیں اور نہ ہی افسانوں کووعظ و نصیحت کے مضامین بننے دیا ہے۔ مزید براں کہیں ذہنی…

Read More

ایم مبین ۔۔۔ ٹوٹی چھت کا مکان

وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے ۔ اکیلے بیٹھے بلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتے رہنا۔ سوچنے کے لیے کوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہے کہ اسی کے بارے میں غور کیا جائے ۔ عجیب و غریب خیالات و موضوعات ذہن میں آتے ہیں ۔ جن پر غور کر کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس نے اپنا سر جھٹک کر سر اُٹھانے والے ان لایعنی خیالوں کو ذہن سے نکالا اور…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ صائمہ نفیس

صائمہ نفیس صائمہ نفیس اِن دنوں کراچی ریڈیو اسٹیشن سے’’ادب سرائے‘‘ کے نام سے ایک ادبی پروگرام کر رہی ہیں۔معروف ادبی جریدے ’’دنیائے ادب‘‘ کی نائب مدیرہ ہیں۔آرٹس کونسل کراچی کی بہت فعال رکن ہیں اور وہاں منعقد ہونے والی تقریبات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’رودالی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ کتاب میں کُل 16 افسانے شامل تھے۔افسانہ نگار کا اسلوبِ بیاں شائستہ، رواں، سادہ اور عام فہم تھا۔کہیں کوئی علامت اور تجرید نہیں تھی۔عدم ابلاغ کا…

Read More

ڈاکٹر نواز کاوش…بہاول پور میں اردو ادب

بہاول پور میں اردو ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاول پور تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا ایک تشخص رکھتا ہے۔ سرسوتی کے مقدس دریا کی وجہ سے اس علاقے کا ویدوں میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ گنویری والا کا مقام تاریخ کا گم گشتہ باب ہے۔جو بہاول پور کے ریگزار میں آج بھی شاندار ماضی کا گواہ ہے۔ پتن منارا، سوئی وہار اور ایسے کئی دوسرے مراکز بہاول پور کے مختلف علاقوں میں اپنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں نے سندھ کے راستے ملتان تک فتوحات کیں…

Read More

مرزا حامد بیگ، حامد یزدانی، خالد احمد، زاہد مسعود

مرزا حامد بیگ، حامد یزدانی، خالد احمد اور زاہد مسعود دفتر ’’بیاض‘‘۔ ایبٹ روڈ لاہور میں ( ۱۹۹۳)

Read More