میر تقی میر ۔۔۔ مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کا

مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کاخاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کاسیکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیکعذر ہی جاہے چلا اس کے دلِ بد خواہ کاگر کوئی پیرِ مغاں مجھ کوکرے تو دیکھےپھرمے کدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کاکاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میںظلم ہے اک خلق پر آشوب اُن کی آہ کا

Read More

میرزا واجد حسین یاس یگانہ

دلِ بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں وہ آنسو کیا پیے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا

Read More

محمد افتخار شفیع

حصارِ ریگ میں برسوں جلا تھا میرا وجود سو ایک دشت مرا ہم خیال ہوگیا ہے

Read More

باقر علی شاہ

اُڑتے دیکھ ابابیلوں کو شہر کا شہر ہی ڈرتا ہو گا

Read More

یونس خیال

رات بھر بھیگتا رہا دامنرات آنکھوں نے انتہا کردی

Read More

محمد افتخار شفیع

ہرشے ہے یہاں صورتِ مہتاب افق تاب اس رات کے پردے میں نہاں کچھ بھی نہیں ہے

Read More

اسحاق وردگ

دیارِ خواب میں غالب کے ساتھ دن گزرا تو رات میر کے حجرے میں ۔۔۔شام داغ کے ساتھ

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا

  کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہو جیے یا آشناپائمالِ صد جفا ناحق نہ ہو اے عندلیبسبزۂ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشناکون سے یہ بحرِ خوبی کی پریشاں زلف ہےآتی ہے آنکھوں میں میرے موجِ دریا آشنا(ق)بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاش کےیک مژہ رنگِ فراری اس چمن کا آشناجس کی میں‌ چاہی وساطت اُس نے یہ مجھ سے کہاہم تو کہتےگر میاں! ہم سے وہ ہوتا آشناداغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرہونجات اس کو بچارا ہم…

Read More

اسداللہ خان غالب

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

Read More

غلام حسین ساجد

شام ہے اور سرخ پیڑوں کے دہکتے سائے ہیں نیند میں بہتا ہوا دھارا ہے جوئے آب کا

Read More