میاں یہ عشق ہے مت دیکھ اس کو حیرت سے کہ جا کہ ملتا ہے اس کا نسب حقیقت سے چراغ باندھ کے گٹھڑی میں بیچنے چلا ہوں جو جگمگایا نہیں روشنی کی نسبت سے وہ بیٹھا روتا رہا دیر تک اکیلا ہی اُتار کر مرے چہرے کو اپنی صورت سے پڑیں گی اور خراشیں اسے جراحت میں یہ دل ہے ٹھیک نہ ہو گا کبھی مرمت سے ہم اپنے شہر میں کچھ اور بھی امیر ہوئے ہمارا عشق بڑھا درد کی تجارت سے وہ روشنی جو دکھائی کبھی نہیں…
Read MoreTag: بیت بازی
آرزو لکھنوی
رہنے دو تسلی تم اپنی، دکھ جھیل چکے، دل ٹوٹ گیا اب ہاتھ مَلے سے ہوتا ہے کیا جب ہاتھ سے ناوک چھوٹ گیا
Read Moreمحسن اسرار
پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreمیر اثر
وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں مَیں کہیں اور کاروان کہیں
Read Moreمعین ناصر ۔۔۔ کاروبارِِ عتاب ہونا ہے
کار و بارِ عتاب ہونا ہے اب فقط احتساب ہونا ہے کون،کب،کس طرح رہا، یارو! روزِ محشر حساب ہونا ہے خواب میں کل مجھے لگا ایسے عشق اُن سے، جناب! ہونا ہے پھر رہا ہوں گلی گلی جیسے اب مجھے بس خراب ہونا ہے میں ہوں اپنی تلاش میں ناصر کم سے کم دستیاب ہونا ہے
Read Moreاحسان شاہ ۔۔۔۔۔۔۔ گماں کے دشت سے گزرا یقین کرتے ہوئے
گماں کے دشت سے گزرا یقین کرتے ہوئے میں آسمان کو اپنی زمین کرتے ہوئے غمِ فراق کی کاٹی ہے رات سجدے میں کسی کی یاد سپردِ جبین کرتے ہوئے وہ کائنات کو جلوت میں لے کے آیا ہے خود اپنے آپ کو خلوت نشین کرتے ہوئے ہوا سے کہہ دو مرے صحن کے درختوں سے کرے کلام تو لہجہ مہین کرتے ہوئے مرے بدن کی کفالت کا بوجھ ہے مجھ پر میں کام کرتا ہوں خود کو مشین کرتے ہوئے میں بے خیالی میں کل رات گھر سے نکلا…
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔ سخن کے نِت نئے میں رنگ و بُو نکالتا ہوں
سخن کے نِت نئے میں رنگ و بُو نکالتا ہوں خموشیوں سے تری گفتگو نکالتا ہوں ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر سے قدم جب کبھو نکالتا ہوں پھر اُس کے بعد میں اپنے لئے بھی بچتا نہیں اگر میں دل سے تری آرزو نکالتا ہوں بھلا نہ پایا جُنوں میں بھی روزگار کا غم میں خارِ دشت سے کارِ رفو نکالتا ہوں برائے وسعتِ ملکِ سخن ، بنامِ سخن میں اپنا لشکرِ فن چارسو نکالتا ہوں سکھانا پڑگیا فرہاد کو یہ فن آخر یہ…
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
حسرت سے اُس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھیے اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا
Read Moreمناجات ۔۔۔ لیاقت علی عاصم
مناجات ۔۔۔۔ دیارِ تشنہ کو ابرِ شمال دے مولا سلگتی آنکھ میں آنسو ہی ڈال دے مولا مری اُداس نظر مطمئن نہیں ہے ابھی فضا میں اور ستارے اُچھال دے مولا گذشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی گذشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا وہ آ ملے مرا کردار ختم ہونے تک یہ اتفاق کہانی میں ڈال دے مولا لپیٹ دوں نہ کہیں میں یہ بسترِ امکاں اب اس قدر بھی نہ کربِ محال دے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Read Moreآرزو لکھنوی
لطفِ بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار دل کیا اُجڑ گیا کہ زمانہ اُجڑ گیا
Read More