جب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا دریا کے باہر بھی دھارا ہو سکتا تھا اِک دیوار گرانے، اِک پردہ اُٹھنے سے اندر باہر ایک نظارہ ہو سکتا تھا تاریکی کی قسمت بدلی جا سکتی تھی ہر بستی میں ایک ستارہ ہو سکتا تھا قریہ قریہ خاک اُڑائی جا سکتی تھی میری آنکھوں کا بٹوارا ہو سکتا تھا جاں دے کر سستے میں جان بچا لائے ہو ورنہ عشق میں اور خسارا ہو سکتا تھا کب تک رستہ خوشبوئوں کا روکے رہتے کب تک اپنا جسم گوارا ہو سکتا…
Read MoreTag: کارواں
عباس تابش
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق آباد (کلیات) الحمد پبلی کیشنز، لاہور اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء
Read Moreرات ہوئی ۔۔۔ فرحت احساس
رات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تم کو پا لینے کی دُھن میں دُنیا اوڑھی رنگ برنگے کپڑے پہنے پیشانی پر سورج باندھا آنگن بھر میں دھوپ بچھائی دیواروں پر سبزہ ڈالا پھولوں، پتّوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی موسم آئے موسم بیتے سورج نکلا، دھوپ کھلی پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی پھر شام ہوئی پھر گہری کالی رات ہوئی! ………………………….. مجموعہ کلام: شاعری نہیں ہے یہ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی ۲۰۱۱ء
Read Moreغلام محمد قاصر
قاصر! وفا کے پیڑ کا قصہ عجیب ہے شاخیں کھڑی ہیں پَھل کا سہارا لیے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تسلسل مکتبہ فنون، انارکلی، لاہور دسمبر 1977ء
Read Moreکارواں، جلد 23، شمارہ 9: ستمبر 1968ء
کارواں ۔جلد 23 شمارہ 9- ستمبر 1968ء Download
Read Moreکارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد :26, شمارہ: 9
Download کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد 26, شمارہ 9
Read Moreتوقیر عباس
تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
Read More