Tag: کارواں
قابل اجمیری
قدم قدم پہ لیا انتقام دنیا نے تجھی کو جیسے گلے سے لگائے پھرتے ہیں
Read Moreعباس رضوی ۔۔۔ اس خرابے کو بہرحال فنا ہونا ہے
سید آل احمد ۔۔ موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے
موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے ہم زاد مرا قلب کا سادہ بھی بہت ہے نفرت بھی محبت کی طرح کرتا ہے مجھ سے وہ پیار بھی کرتا ہے رُلاتا بھی بہت ہے وہ شخص بچھڑتا ہے تو برسوں نہیں ملتا ملتا ہے تو پھر ٹوٹ کے ملتا بھی بہت ہے خوشحال ہے مزدور بہت عہدِ رواں کا ماتھے پہ مگر اُس کے پسینہ بھی بہت ہے برسا ہے سرِ دشتِ طلب اَبر بھی کھل کر سناٹا مری روح میں گونجا بھی بہت ہے تم یوں ہی شریک…
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
ابھی، اے شیفتہ! واقف نہیں تم کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا
Read Moreسید رضی ترمذی ۔۔۔ مستقبل کا خالی رستہ
عابد سیال ۔۔۔ رُکو ، وہم و شبہات کا وقت ہے
رُکو ، وہم و شبہات کا وقت ہے کہاں جائو گے ، رات کا وقت ہے کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر یہ معمولی اوقات کا وقت ہے یہ کیا دل میں ریزہ رڑَکنے لگا ابھی تو شروعات کا وقت ہے گلے خشک ، پیشانیاں تر بتر عمل کے مکافات کا وقت ہے
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ حالات سے ماورا نہیں مَیں
نجیب احمد نمبر ۔۔۔ جنوری 2020ء تا جون 2020ء
نجیب احمد نمبر ۔.۔ کارواں جنوری تا جون 2020ء DOWNLOAD
Read Moreایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا مجھ کو زندہ بھی دفنایا جا سکتا تھا چڑیوں کی آواز نہ کانوں تک آ سکتی گھر میں اتنا شور مچایا جا سکتا تھا جب تک برف پگھلتی یا برکھا رُت آتی دریا اور بھی کام میں لایا جا سکتا تھا تم نے اپنا رستہ خود روکا تھا، ورنہ تم جب آنا چاہتے، آیا جا سکتا تھا چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جا سکتی تھیں ہنستے ہنستے غم اَپنایا جا سکتا تھا کتنا ہی مصروف تھا پھر بھی اپنی خاطر تھوڑا سا تو وقت…
Read More