روئے سخن کدھرہے خبر ہے مجھے جناب غافل نہیں ہوں صرفِ نظر کر رہا ہوں میں
Read MoreTag: Best Ghazals
حسن عباس رضا
برے بھلے کا اسے فرق ہی نہیں معلوم کہیں وہ گھر نہ جلا دے، دیا جلاتے ہوئے
Read Moreشفیق آصف
بچھڑیں گے تم سے اس کا تو خدشہ رہا مگر ترکِ تعلقات کا وہم و گماں نہ تھا
Read Moreاقبال قمر…. ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں
ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں کہ تیر تھے ہی نہیں اور کمانیں کھلنے لگیں وہ اک خیال جو ہم نے کبھی تراشا تھا اسی کے نام پہ ساری دکانیں کھلنے لگیں بس ایک عزمِ مصمم ہے راستے کی کلید قدم اٹھایا نہیں اور چٹانیں کھلنے لگیں سکوت تھا کہ سبھی حلقہ ہائے نور میں تھے چراغ بجھتے گئے اور زبانیں کھلنے لگیں خدا نہ کردہ ہو عجلت مزاج تم سا قمر شکار آیا نہیں اور مچانیں کھلنے لگیں
Read Moreمحمد افتخار شفیع
میں نکل آتا ہوں بازار کے سناٹے میں گھر میں تو خوف کا احساس نہیں رہتا ہے
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے
نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…
Read Moreشہزاد احمد
کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ جلوہ بھی اس کا پردہ ہے،محرومی! محرومی!
جلوہ بھی اس کا پردہ ہے، محرومی ، محرومی میں نے اس کو کب دیکھا ہے، محرومی ، محرومی وہ خوشبو کا چنچل جھونکا میں سوکھی ڈالی کا پھول اس کا میرا کیا ناتا ہے، محرومی ، محرومی چاند نگر میں دھول اڑائی تارے تارے پھینکے جال اب میری جھولی میں کیا ہے، محرومی، محرومی فتح و ظفر کے نقاروں میں اپنا پرچم اُڑتا ہے اندر کتنا سنّاٹا ہے، محرومی، محرومی اک مجمع ہے چاروں جانب ماتم کرنے والوں کا جو بھی ہے وہ چیخ رہا ہے، محرومی ، محرومی…
Read Moreیاد کی کلی چٹکی، غم کا گلستاں مہکا ۔۔۔ خلیل رام پوری
یاد کی کلی چٹکی، غم کا گلستاں مہکا چاند کے تبسم میں جانے رات کیا دیکھا ہم بھی رنگِ دنیا سے کر رہے ہیں اندازہ آدمی ستاروں کی مشعلیں بجھائے گا گوشہء تخیل میں شہر ہے نہ ویرانہ کس اُداس عالم میں تجھ کو خواب میں دیکھا اک چراغ بجھتا ہے، سو چراغ جلتے ہیں دن کے نور سے اپنی رات کا سماں اچھا فاصلے جدائی کے عمر بھر نہ کم ہو نگے عشق ۔۔۔ نکہتِ برباد، حسن ۔۔۔ برگِ آوارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوغات شمارہ: 006
Read More