رضوان احمد ۔۔۔ مخدوم محی الدین: کمیونسٹ لیڈر اور شاعر

مخدوم محی الدین ایک ترقی پسند شاعر تھے۔ گذشتہ سال ان کی پیدائش کی صدی ہندو پاک میں بڑے پیمانے پر منائی گئی تھی اور کئی مقامات پر سیمناار، سمپوزیم، مباحثے اور یاد گاری جلسوں کا انعقاد ہوا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مخدوم کی شاعری کا حقیقی طور پرتنقیدی محاسبہ اب بھی نہیں کیاجا سکا ہے، کیوں کہ جلسے، جلوس اور سیمنار تو وقتی ہو تے ہیں ان میں جو مقالے پڑھے جاتے ہیں وہ بھی وقت کا خیال رکھ کر لکھے جاتے ہیں ان میں گہرائی نہیں…

Read More

رضوان احمد ۔۔۔ بانی ( نئی غزل کی منفرد آواز)

یہ کہنا تو شاید قبل از وقت ہو گا کہ بانی غزل میں ایک نئی روایت کے بانی تھے، مگر یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اردو غزل کی کلاسیکی روایات سے انحراف کیا تھا۔ بانی کی غزل خود ہی اس حقیقت پر دال ہے: محراب نہ قندیل نہ اسرار نہ تمثیل کہہ اے ورقِ تیرہ، کہاں ہے تری تفصیل آساں ہوئے سب مرحلے ایک موجہٴ پاسے برسوں کی فضا ایک صدا سے ہوئی تبدیل مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے اک اور ذات میں ڈھلتا ہوا…

Read More

رضوان احمد … حرف سرِدار: اشفاق اللہ خاں حسرت وارثی کی شاعری

زنداں اور طوق و سلاسل کی آزمائشوں سے تو ہمارے کتنے ہی ادبا و شعرا گزرے ہیں کتنوں کو قفس کی تیلیوں کے اندر اپنی فکر کا اظہار کرنا پڑا ہے، کتنوں نے زنجیروں کی جھنکاروں کے درمیان شاعری کی ہے۔ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر بھی فکر کو اسیر نہیں کیا جا سکا۔ لیکن اشفاق اللہ خاں حسرت وارثی شاید واحد شاعر ہیں جن کو پھانسی کی سزا دے دی گئی اور ان کی مکمل شاعری حرف سرِ دار ہے۔ کیوں کہ وہ کوئے یار سے نکل کر سیدھے…

Read More

رضوان احمد ۔۔۔ سابق بھارتی وزیرِ اعظم وی پی سنگھ: سیاست دان شاعر

بھارت کے سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کا انتقال 26 نومبر 2008کو ہوا تھا، لیکن ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے سبب یہ خبر دب کر رہ گئی۔ حالانکہ وی پی سنگھ ایسے وزیر اعظم تھے جنہوں نے ملک کی سیاست کا دھارا ہی تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے1989ء میں پسماندہ ذاتوں اور دبے،کچلے عوام کے لیے شدید مخالفتوں کے باوجود منڈل کمیشن لاگو کیا تھا اور اس کے باعث ان کی حکومت بھی چلی گئی تھی لیکن اس کی پروا نہ کرتے ہوئے وی پی سنگھ…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے

اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے رات بھر تذکرۂ یار کیا کرتا ہے بیٹھنے پاتے نہیں سایۂ دیوار میں ہم کوئی گریہ پسِ دیوار کیا کرتا ہے وہ بھڑکتا ہے مرے سینے میں شعلے جیسا پھر اسی آگ کو گلزار کیا کرتا ہے ایک ناسور ہے احساس میں حق تلفی کا جو مری ذات کو مسمار کیا کرتا ہے بادباں کھول کے دیکھو تو سفینے والو خشک دریا بہت اصرار کیا کرتا ہے کوئی خوشبو کی طرح نام ترا لے لے کر پھول کے کان میں گنجار کیا…

Read More

قابل اجمیری

بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا

حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا حوصلے کا آئینہ ہے دلِ زبوں اپنا تیرا دھیان بھی جیسے کعبۂ تقدس ہو تیرے بعد بھی رکھا ہم نے سرنگوں اپنا رخشِ وصل کی باگیں دستِ شوق کیا تھامے فصلِ انبساط آگیں حال ہے زبوں اپنا فاصلوں کی دوپہریں رنگِ رُخ اُڑاتی ہیں خون خشک کرتا ہے دور رہ کے کیوں اپنا عقل بیٹھ جاتی ہے تھک کے جب دوراہے پر کام آ ہی جاتا ہے جذبۂ جنوں اپنا تجھ پہ بار کیوں گزرا میری چپ کا سناٹا تو جو خود…

Read More

مجید شاہد ۔۔۔ کس شہرِ خرابی میں سرگرمِ تگ و تاز

کس شہرِ خرابی میں ہو سرگرمِ تگ و تازہوتے ہیں یہاں صرف بگولے ہی سرافراز کانٹوں کی زباں نغمۂ گل چھیڑ رہی ہےسائے نظر آتے ہیں سرِ مسندِ اعزاز پانی کی روانی کو ترستے ہیں سمندرحالانکہ ہیں بہتے ہوئے دریاؤں کے ہمراز کتنی ہی امیدوں کا لہو ان میں رچا ہےعنوانِ بہاراں ہیں بظاہر جو لبِ ناز کچھ قدر ہماری بھی کر، اے دوست! کہ ہم نےتیرے لیے خود کو بھی کیا ہے نظر انداز بیٹھے ہیں خبر بن کے رہِ بے خبری میںہم خاک نشینوں کا ہے ادنیٰ سا…

Read More

شکیب جلالی ۔۔۔ رباعیات

تقدیسِ شباب سے شرارے پھوٹے انگڑائی کہ جیسے ماہتابی چھوٹے یوں اُٹھ کے گریں وہ شوخ بانہیں گویا اک ساتھ فلک سے دو ستارے ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔۔ مے خانہ بدوش یہ گلابی آنکھیں زلفیں ہیں شبِ تار تو خوابی آنکھیں مستی کے جزیروں سے پکارا کوئی ساون کی پھواریں یہ شرابی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گل رنگ یہ زرکار سی بھوری کرنیں سیماب سے دھوئی ہوئی نوری کرنیں بلور سی بانہوں پہ دمکتے ہوئے بال مہتاب کی قاشوں پہ ادھوری کرنیں ۔۔۔۔۔۔۔ انگ انگ میں بہتے ہوئے مہ پارے ہیں کس درجہ شرر…

Read More

ناصر کاظمی ۔۔۔ دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی، اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا، اے دوست! تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر ِطرب یاد آیا حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

Read More