احمد فراز … دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے

دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں اب کسی شہر کی بُنیاد نہ ڈالی جائے مصحفِ رُخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے وہ مرّوت سے ملا ہے تو جُھکا  دوں گردن میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے بے نوا سحر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز کس طرح سے میری آشفتہ خیالی جائے

Read More

احمد فراز

کیا خبر تجھ کو  کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے

Read More

افتخار عارف

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

Read More

اقتدار جاوید … کیڑی کی ماں

کیڑی کی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بجی لڑکے اسکول سے شہد سے میٹھے اپنے گھروں کی طرف ایسے مڑتے نظر آئے تھے شہد کی مکھی جیسے پلٹتی ہے چھتے کی جانب مسرت کا سیلاب گلیوں میں، کونوں میں، رونق بھرے دونوں بازاروں میں بہہ رہا تھا شریروں کا مجمع تھا یا نرم گڈوں کی ڈوریں کٹی تھیں تھا ’’بو کاٹا‘‘ کا شور گڈے دکانوں کے چھجوں، درختوں کے ڈالوں، منڈیروں کے کونوں پہ ہنستے ہوئے گر رہے تھے زمانے کا میدان ڈوبا ہوا تھا کئی رنگوں میں! نانبائی کے…

Read More

اقتدار جاوید ۔۔۔ دبلی پتلی

دبلی پتلی ۔۔۔۔۔۔۔ شگن بھری خواب سے جڑی ہے زمانہ رفتار سے بندھا ہے (زمانے کو آپ زید کہہ لیں کہ بکر جانیں) شگن بھری کا وہ خواب، وہ آفتاب روشن ہے جو افق کے محیط کو روندتا نکلتا ہے شب کے اسفنج سے سیاہی نچوڑتا ہے وہ نیند اور نیند کے اندھیروں کی کوکھ کو توڑتا ہے وہ وقت کی یخ  آلود  جھیل کو چھیدتا ہے تو ثانیے ابلتے ہیں جیسے…جیسے… شگن بھری کی بخار والی سفید آنکھوں سے جیسے موتی ٹپک رہے ہوں زمانہ رفتار سے بندھا ہے…

Read More

تنہائی سے آگے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

تنہائی سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب بحثیں جو گھس پِٹ کے پرانی ہو جائیںجب کوئی رس نہ ہو دہرائی ہوئی باتوں میںمضمحل روحیں خموشی کا سہارا ڈھونڈھیںجب کوئی لطف نہ رہ جاۓ ملاقاتوں میں جب نہ محسوس ہو کچھ گرمئ آداب و سلامجی نہ چاہے کہ کوئی پرسشِ احوال کرےدور تک  پھیلی ہوئی دھند ہو، سنّاٹے ہوں سب کے سب بیٹھے ہوں اور کوئی نہ ہو کچھ نہ رہے ان خلاؤں سے نکل کر کہیں پرواز کریںآؤ کچھ سیر کریں ذہن کی پہنائی میں!کیوں نہ دریافت کریں ایسی گزر گاہوں کوبات…

Read More

نعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم

نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…

Read More

سلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ

پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…

Read More

رانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام

اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا  ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…

Read More

عزیز فیصل … سلام

سلام۔۔۔یزید سے ہیں مفادات اس کے وابستہسو اس نے چھوڑ دیا اہلِ بیت کا رستہنہیں ہے مسئلہ اس کا نبی و آل ِنبیکہ فرقہ باز کو درکار ہے فسوں سستارسول ِخیر سے نسبت نہیں ہے نسبت ِعامستم شعار! بہت ہے ترا یقیں خستہجو ریگزار میں آباد کر گئے تھے حسینوہ ایک شہر دلوں میں ہے آج بھی بستااِدھر تھے ابن ِعلی کے فقط بہتر لوگاُدھر تھا جبرو ستم کی سپاہ کا دستہ

Read More