مجید شاہد ۔۔۔ کس شہرِ خرابی میں سرگرمِ تگ و تاز

کس شہرِ خرابی میں ہو سرگرمِ تگ و تازہوتے ہیں یہاں صرف بگولے ہی سرافراز کانٹوں کی زباں نغمۂ گل چھیڑ رہی ہےسائے نظر آتے ہیں سرِ مسندِ اعزاز پانی کی روانی کو ترستے ہیں سمندرحالانکہ ہیں بہتے ہوئے دریاؤں کے ہمراز کتنی ہی امیدوں کا لہو ان میں رچا ہےعنوانِ بہاراں ہیں بظاہر جو لبِ ناز کچھ قدر ہماری بھی کر، اے دوست! کہ ہم نےتیرے لیے خود کو بھی کیا ہے نظر انداز بیٹھے ہیں خبر بن کے رہِ بے خبری میںہم خاک نشینوں کا ہے ادنیٰ سا…

Read More

خلیل رام پوری ۔۔۔ پانی سمندروں میں نہیں کیا گھٹا اٹھے

پانی سمندروں میں نہیں، کیا گھٹا اٹھے کوئی خدا شناس بدستِ دعا اٹھے آواز دے کہ دوڑ پڑے زندگی کہ لہر مردہ بھی خاک سے جو اٹھے، بولتا اٹھے ایسے میں روئے، چونک پڑا جس طرح کوئی دریا کے درمیان سے ڈوبا ہوا، اٹھے کوئی تو نقش ابھرے خلا کا نگاہ میں منظر کوئی تو خاک سے لے کر ہوا اُٹھے نرغے میں دشمنوں کے کھڑا سوچتا ہے کیا آواز تو لگا، کوئی مردِ خدا اُٹھے دم گھٹ رہا ہے ساری فضا کا ہوا بغیر ایسے میں میری گرد کا…

Read More

عزیز اعجاز ۔۔۔ بازوؤں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اُس کا

بازوؤں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اُس کا ہم کبھی نہیں بھولے والہانہ پن اُس کا بھینی بھینی خوشبوئیں چار سو بھٹکتی ہیں ذکر چھڑ گیا شاید پھر چمن چمن اُس کا میں بھٹک بھٹک جاؤں جب نہ راستے پاؤں بے پناہ تاریکی ،غم کرن کرن اُس کا بزمِ ناز میں جا کر ہونٹ کاٹتے رہنا بات کس سے ہوتی ہے، کون ہم سخن اُس کا درخورِ کرم اُس نے مدتوں ہمیں سمجھا کیا بھلا بساط اپنی تھا یہ حسنِ ظن اُس کا ایک نام ہی لب پر بار بار…

Read More

احمد فراز … دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے

دل گِرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں اب کسی شہر کی بُنیاد نہ ڈالی جائے مصحفِ رُخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے وہ مرّوت سے ملا ہے تو جُھکا  دوں گردن میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے بے نوا سحر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز کس طرح سے میری آشفتہ خیالی جائے

Read More

احمد فراز

کیا خبر تجھ کو  کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے

یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے اور پھر ترکِ تعلق سے ڈرائے گا مجھے آپ مسمار کرے گا وہ گھروندے اپنے اور پھر خواب سہانے بھی دکھائے گا مجھے مجھ کو سورج کی تمازت میں کرے گا تحلیل اور مٹی سے کئی بار اُگائے گا مجھے اپنی خوشبو سے وہ مانگے گا حیا کی چادر زیبِ قرطاسِ بدن جب بھی بنائے گا مجھے ربِ ایقان و عطا! عمر کے اس موڑ پہ کیا راستے کرب کے ہموار دکھائے گا مجھے میں کڑی دھوپ کا سایہ ہوں کڑے…

Read More

اقتدار جاوید … کیڑی کی ماں

کیڑی کی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بجی لڑکے اسکول سے شہد سے میٹھے اپنے گھروں کی طرف ایسے مڑتے نظر آئے تھے شہد کی مکھی جیسے پلٹتی ہے چھتے کی جانب مسرت کا سیلاب گلیوں میں، کونوں میں، رونق بھرے دونوں بازاروں میں بہہ رہا تھا شریروں کا مجمع تھا یا نرم گڈوں کی ڈوریں کٹی تھیں تھا ’’بو کاٹا‘‘ کا شور گڈے دکانوں کے چھجوں، درختوں کے ڈالوں، منڈیروں کے کونوں پہ ہنستے ہوئے گر رہے تھے زمانے کا میدان ڈوبا ہوا تھا کئی رنگوں میں! نانبائی کے…

Read More

اظہر فراغ ۔۔۔ غزلیں

اسی لیے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیےضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہےابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کس سے کر کے اس کو…

Read More

آصف شفیع

مَیں چپ ہوں اب اُسے کیسے بتاؤں کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے

Read More