بانی ۔۔۔ ​نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں

غزل​ ​نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں تیرا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا ! میں کیا ہوں رقص یک قطرۂ خوں ، آپ کشش، آپ جنوں اے کہ صد تشنگیِ حرف و صدا !میں کیا ہوں ایک ٹہنی کا یہاں اپنا مقدر کیسا پیڑ کا پیڑ ہی گرتا ہے جُدا، میں کیا ہوں اک بکھرتی ہوئی ترتیبِ بدن ہو تم بھی راکھ ہوتے ہوئے منظر کے سوا میں کیا ہوں تو بھی زنجیر بہ زنجیر بڑ ھا ہے مری سمت ساتھ میرے بھی روایت ہے ، نیا…

Read More

حسن عباس رضا

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے

Read More

یزدانی جالندھری

ملّاح سرفگندہ، مسافر تھکے ہوئے اُتریں گے کیسے پار، ہوا سامنے کی ہے

Read More

شاہین عباس

تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور

Read More

عطاالحسن

چاہے مکین گھر کو بُرا جاننے لگے دیوار کیسے در کو بُرا جاننے لگے

Read More

صابر ظفر

کچھ لوگ ادھر سے آ رہے ہیں کچھ روشنی ہو رہی ہے اس پار

Read More

یزدانی جالندھری

مجھ سے ناراض تو وہ ہیں، لیکن تذکرہ میرا بات بات میں ہے

Read More

فیض احمد فیض

نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی

Read More

خالد علیم

کوئی پہلو میں رہتے ہوئے بھی ہے مجھ سے جدا اِن دنوں میرا سینہ سمندر ہے، دل ناخدا، میں اکیلا نہیں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا

قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا مردُود، بہت مقبول ہُوا ہر طُول کو عرض کیا اُس نے اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے جو کام کیا، وہ اصول ہُوا گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا ہو کیسے سپھل پیوندوں سے ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا

Read More