مرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…

Read More

الطاف حسین حالی

تم کو ہزار شرم سہی، مجھ کو لاکھ ضبط اُلفت وہ راز ہے جو چھپایا نہ جائے گا

Read More

امیر مینائی

قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

Read More

داغ دہلوی

لطف آرام کا نہیں ملتا آدمی کام کا نہیں ملتا

Read More

ابراہیم ذوق

قسمت ہی سے لاچار ہوں، اے ذوق! وگرنہ سب فن میں ہوں طاق ، مجھے کیا نہیں آتا

Read More

ڈاکٹر اختر شمار ۔۔۔۔ میرا دشمن بھی خاندانی ہو

Read More

التباس ۔۔۔ شناور اسحاق

التباس شناور اسحاق DOWNLOAD

Read More

قادر نامہ ۔۔۔ بچوں کے لیے غالب کی ایک نایاب کتاب ۔۔۔ مرتبہ : ڈاکٹر محمود الرحمن

قادر نامہ غالب DOWNLOAD

Read More

آنس معین کا  والدین کے نام  آخری خط

شاعرِ کرب آنس معین کا  والدین کے نام  آخری خط زندگی سے زیادہ عزیز امی اور پیارے ابو جان خدا آپ کو ہمیشہ سلامت اور خوش رکھے میری اس حرکت کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ میں زندگی کی یکسانیت سے اکتا گیا ہوں ۔کتابِ زیست کا جو صفحہ الٹتا ہوں اس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحے پر پڑھ چکا ہوتا ہوں ۔اس لیے میں نے ڈھیر سارے اوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جو آخری صفحے پر لکھی…

Read More

اکرم کُنجاہی  … شہر آشوب

شہر آشوب ………. طہارت دل کے کعبوں کی مٹی جاتی ہے یارب کوئی دل تو مقدس ہو کہ جس میں انسانوں کی الفت شمع کی صورت فروزاں ہو مگر ستم ہے کہ جتنے دل ہیں وہ دل سیاہ ہیں دماغ سارے کدورتوں کی اماجگاہ ہیں دکھی دلوں کی جو بے بسی کو نویدِ فتح مبین سمجھیں چبھن ہے کانٹوں سی بانجھ سوچوں کی کھیتیوں میں کون فردِ عمل کو دیکھے کہ جاہلوں کی زباں سچائی کا ہے صحیفہ حسن و خوبی معیار کیسا چھپا دئیے ہیں اندھیرے پردوں میں کور…

Read More