غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی نگاہِ قیس ٹکراتی رہے گی سارباں کب تک یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل…
Read MoreTag: اردو شاعری کی کتابیں
مرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreامیر مینائی
قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
Read Moreچکبست لکھنوی
زباں سے جوشِ قومی دل میں پیدا ہو نہیں سکتا ابلنے سے کنواں وسعت میں دریا ہو نہیں سکتا
Read Moreڈاکٹر اختر شمار ۔۔۔۔ میرا دشمن بھی خاندانی ہو
اقبال ساجد
یہ ترے اشعار تیری معنوی اولاد ہیں اپنے بچے بیچنا اقبال ساجد چھوڑ دے
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے
ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…
Read Moreعزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں
کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…
Read Moreنذیر قیصر
ستارہ ایک سرائے پہ آ کے ٹھیر گیا دعا تمام ہوئی، راستہ تمام ہوا
Read Moreعمران اعوان ۔۔۔ ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں
ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں اسطرح زندگی گزار نہیں تو نے ہر بار جھوٹ بولا ہے تیری باتوں کا اعتبار نہیں تو یہاں وقت پاس کرتا ہے مجھ کو معلوم ہے یہ پیار نہیں تیرا ہر سال اک کہانی ہے میرا لمحوں میں بھی شمار نہیں میں پسِ بام دیکھ سکتا ہوں صرف آنکھوں پہ انحصار نہیں تیری آنکھوں میں ہو بھی سکتا ہے میرے چہرے پہ تو غبار نہیں تو مجھے کب کا بھول بیٹھا ہے اور مجھے تیرا انتظار نہیں زندگی سے فرار ممکن ہے ہجر کی…
Read More