شاہ نصیر

لگ گیا خاک ہو کے جسم نصیر کوچۂ یار میں ٹھکانے آج

Read More

محسن احسان

مری سماعت و بینائی چھیننے والے میں سن بھی سکتا ہوں مجھ کو نظر بھی آتا ہے

Read More

خالد علیم

میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں

Read More

محسن اسرار

جو پوچھنا ہے ابھی پوچھ لو تو اچھا ہے پھر اس کے بعد تو ہم کچھ نہ کہہ سکیں شاید

Read More

شاہین عباس

لوگ گلی گلی سے اب، پوچھ رہے ہیں ، کیا ہوا پکڑا گیا تھا ، کیا کروں ، شوق تھا یہ گڑھا بھروں

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے

تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…

Read More

مرزا غالب

بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

Read More

احمد فراز

ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا سبھی نے وعدۂ فردا پہ ٹال رکھا ہے

Read More

محسن اسرار

جو بھی دیکھے وہی مشکوک نظر سے دیکھے ایک گالی ہے زمانے میں اکیلا ہونا

Read More