ہر سو تھے ہمی غبار فرما تو تھا کہ ہوا کا قہقہہ تھا
Read MoreTag: بہترین شاعری
قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read Moreمحمد علی ایاز ۔۔۔ دو غزلیں
سبھی دشتِ ہجر کی وسعتیں مرے نام کرکے چلا گیا وہ جو ایک لمحۂ مختصر میں قیام کرکے چلا گیا میں خزاں رسیدہ بدن لیے رہا منتظر سرِ رہ گزر وہ محبتوں کی بہار میں کہیں شام کرکے چلا گیا مری دھڑکنوں کے حصار میں کوئی لمحہ بھر وہ رکا رہا سبھی زحمت دل زار کو جو تمام کرکے چلا گیا دل مضطرب کی پکار ہے کہ وہ بے پناہ حسین شخص مری حسرتوں، مری خواہشوں کو غلام کرکے چلا گیا جسے ہر نظر سے چھپا کے میں نے رکھا…
Read Moreعمران اعوان ۔۔۔ تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا
تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا اتنا ہیجان بھی نہیں ہوتا چھوڑ دینا کسی کو رستے میں اتنا آسان بھی نہیں ہوتا میں کسی کے بھی چھوڑ جانے پر اب تو حیران بھی نہیں ہوتا اپنی رکتی ہوئی روانی پر دل پریشان بھی نہیں ہوتا ہجر کچھ اس طرح کی ہجرت ہے ساتھ سامان بھی نہیں ہوتا جتنا میں لگ رہا ہوں چہرے سے اتنا انجان بھی نہیں ہوتا قائدے گر نہ توڑتا آدم ایک انسان بھی نہیں ہوتا خوف کے بت نہیں بناتے تو آج بھگوان بھی نہیں ہوتا
Read Moreاکمل حنیف ۔۔۔ یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں ماہنامہ بیاض اپریل 2023 )
یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں سب کے چہروں کو پڑھ چکا ہوں میں خود سے ملنے کا راستہ ہے یہی تجھ سے ملنے کو چل پڑا ہوں میں یاد آئی ہے رفتگاں کی مجھے اپنی آنکھوں سے بہہ رہا ہوں میں دکھ یتیمی کا کمسنی میں ملا اس لیے عمر سے بڑا ہوں میں اتنا قد بھی مرا غنیمت ہے پیڑ کے سائے میں اُگا ہوں میں دل ابھی تک ہے بورے والا میں گرچہ لاہور آ گیا ہوں میں مجھ کو رہتی نہیں معاش کی فکر…
Read Moreخالد علیم
دلِ آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے اپنی ہر رات ستاروں سے بھری رکھتا ہے
Read Moreشاہین عباس
گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا
Read Moreیزدانی جالندھری
ایک درویشِ جہاں دار ہے یزدانی بھی آپ نے شہر میں اکثر اُسے دیکھا ہو گا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں
Read Moreسید آل احمد
آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے
Read More