نعتیہ چہرہ تمام رنگ تھا، پیکر کِرن تمام کجلا کے رہ گئے مَہ و پروین تن تمام اک سطر میں ہوئے ورَقِ جان و تن تمام لیکن ہُوا نہ تذکرۂ پیرہن تمام اک سرسری نگاہ میں گل رنگ ہو گئے پست و بلند، دشت و جبل، ژاژ و بن تمام کس رُخ کروں قصیدۂ شاہِ زَمن تمام تشیب ہی میں ہو گئی تابِ سخن تمام اے کاروانِ خاک و خل و خار و خس! سنبھل محمل کے ساتھ ساتھ ہیں گُل پیرہن تمام خیمہ بہ دوش، شانہ بہ کف، خانماں…
Read MoreTag: خالد احمد
مرزا حامد بیگ، حامد یزدانی، خالد احمد، زاہد مسعود
مرزا حامد بیگ، حامد یزدانی، خالد احمد اور زاہد مسعود دفتر ’’بیاض‘‘۔ ایبٹ روڈ لاہور میں ( ۱۹۹۳)
Read Moreانہدام ۔۔۔ خالد احمد
انہدام ۔۔۔۔۔ یہ میری دیمک لگی کتابیں یہ نینوا کی اجل شکستہ گِلی کتابوں کی داستانیں یہ عہد نامے، یہ کِرمِ تحریف سے لدی، بھربھری کتابیں پیمبرانِ خدا کے ’ناقض۔سند‘ قصص، انحراف آمادہ اُمتوں کی کہانیاں ہیں ورق ورق فلسفوں کی مربوط داستانیں یہ عقل و دانش بھری کتابیں تمام الحاد و زندقہ ہیں مرے زمانے کی روشنی کے لیے نہیں ہیں یہ مشرقی اور مغربی حسن کار ذہنوں کی سعیِ پیہم کی داستانیں مرے زمانے کی تیرگی کے لیے نہیں ہیں یہ حرفِ غم، میری روح کا ایک دائمی…
Read Moreباتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی
باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…
Read Moreخالد احمد
ترا ہاتھ دیکھتے دیکھتے، مرے ہاتھ پر بھی نہ کھینچ دے خطِ قلب و ذہن کے درمیاں، وہ خطِ غبار یہیں کہیں
Read Moreایک دن گم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خالد احمد
ایک دن گم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں! تمھیں تو یاد ہوگا تم نے اُس دن منہ اندھیرے نیند کی چادر ہٹا کر بوسہ ماتھے پر سجا کر ہاتھ یوں بالوں میں پھیرے دوڑ اُٹھے رگ رگ سویرے گرم بستر سے اُٹھایا مجھ کو نہلایا، دُھلایا زیبِ تن کپڑے نئے تھے زیبِ پا جوتے نئے تھے ماں! تمھیں تو یاد ہوگا مدرسے کی سمت جاتا کاندھے پر بستہ جھلاتا وہ کھلنڈرا سا دُلارا ایک ننھا سا ستارا اپنے ملبے پر کھڑا ہے چار جانب دیکھتا ہے کیا کہوں ؟ کیا…
Read Moreخالد احمد
پہلے سے دوست ہیں نہ وہ پہلے سی دوستی کس سے کہیں کہ شہر میں کیا کیا نہیں رہا
Read Moreخالد احمد
بے چین شام سے ہیں اَبابیل کی طرح کعبے کے رُخ اڑان کا یارا نہیں رہا
Read Moreخالد احمد
تختِ مرمر پہ کل تھے آسودہ مرمر آسودگان، زیرِ مزار
Read Moreخالد احمد
اک مذلّت نشیں تھے ہم ہی یہاں کوئی خاقان تھا، کوئی قاچار
Read More