سیّدظہیر کاظمی ۔۔۔۔۔۔ حسبِ حال اپنا زائچہ ہی نہیں

(نذرِ لیاقت علی عاصم) حسبِ حال اپنا زائچہ ہی نہیں گھر بنانے کا حوصلہ ہی نہیں جس کی خاطر سفر تمام کیا مجھ کو منزل پہ وہ ملا ہی نہیں میری آنکھوں میں خواب ہیں تیرے ورنہ جینے کا حوصلہ ہی نہیں شہر خوابوں کا بس گیا،لیکن اک مسافر پلٹ سکا ہی نہیں تو نے پوچھا ہے حال رستوں کا میری آنکھوں میں کچھ بچا ہی نہیں مجھ سے بچھڑا بڑی سہولت سے جیسے وہ مجھ کو جانتا ہی نہیں آ تجھے چھوڑ آئوں منزل تک پھر نہ کہنا: مجھے…

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔۔ ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھائوں گا

ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھائوں گا تیرے لیے سکون کے لمحے بنائوں گا میں نے بدل لیا ہے رویہ ہواے شب! اب تو دیا بجھاے گی میں پھر جلائوں گا چل ہی پڑے گی چاروں طرف بادِ نو بہار جب میں زمیں پہ آخری پتا گرائوں گا فرضی حکایتوں پہ نہ آنسو گنوائو تم یارو! کبھی میں اپنی کہانی سنائوں گا پھیلائوں گا میں دامنِ دل تیرے سامنے تو سوچتا ہے، مَیں ترا احساں اٹھائوں گا اک پل میں ایک واقعہ رکھوں گا دھیان میں اور دوسرے ہی…

Read More

خامشی کے سبز پس منظر میں (جناب خالد علیم کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

خامشی کے سبز پس منظر میں (جناب خالد علیم کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گُلِ اظہارِجاں تم جانتے ہی ہو کہ میں نے خامشی کے سبز پس منظر میں بھی اِک عُمر خاموشی سُنی ہے پیش منظر کے سُلگتے شور کے اُس پار جذبے بولتی آنکھیں محدّب حیرتوں کے عکس بُنتی سوچتی آنکھیں حدودِ عرصۂ ہجر و توصّل سے ورا تہذیب سے الفاظ کا اور خیر سے اخلاص کا رشتہ مجسم نظم لگتا ہے کتب خانے کی الماری میں روشن اک کلاسیکی مجلّہ مسکراتی دوستی اک میز کے کونے سے کونے تک…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔۔ نشانِ رفتگاں ابتر کھڑے ہیں

نشانِ رفتگاں ابتر کھڑے ہیں فصیلیں گر گئیں ہیں، در کھڑے ہیں پسِ منظر کوئی طوفان ہوگا کہ دم سادھے ہوئے منظر کھڑے ہیں ہمیں نے اس کے ترکش کو بھرا تھا مگر ہم بھی نشانے پر کھڑے ہیں سُنا ہے آج وہ باتیں کرے گا سماعت کے لیے پتھر کھڑے ہیں بہت سے سر کشیدہ دار پر ہیں جو باقی ہیں خمیدہ سر کھڑے ہیں ہم اپنا قد بڑھا کر کیا کریں گے غنیمت ہے کہ پیروں پر کھڑے ہیں ہزراروں لوگ میخانے میں اشعر امیدِ قطرہ ء مئے…

Read More

دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی ….. سید آلِ احمد

دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی خوشبو اُڑی تو رات بہت دُور تک گئی بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ شب‘ رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر برقِ تبسمات بہت دُور تک گئی خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے مَیں تاریکیٔ حیات بہت دور تک گئی احمدؔ سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی

Read More

من ہیٹن میں ایک شام …… حامد یزدانی

من ہیٹن میں ایک شام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اونچی اونچی عمارتوں میں گھری ناشناسا سی اک شناسائی نیچے تکتی ہے بادلوں کی طرف ادھ کھلی آنکھ کے دریچے سے جلتا بجھتا نشان تھامے ہوئے ٹائم اسکوئر پر رُکا لمحہ کس گزشتہ صدی کا ماتم ہے زندگی ہے کہ ییلو کیب کوئی ہارن دیتی گزر ہی جاتی ہے موت کی راہ صاف کرتی ہوئی ایک پولیس کار۔۔۔ ایمبیولینس کوئی شور دم توڑنے لگا یک دم ان گنت پائوں بڑھنے لگتے ہیں دھیرے دھیرے براڈوے کی سمت ’کسی نزدیکی روڈ پر پہنچیں‘ نیوی گیٹر…

Read More

سید علی مطہر اشعر

پھر لختِ جگر کوئلہ لے آیا کہیں سے اب دیکھیے کیا کیا سرِ دیوار بنے گا

Read More

غزل ۔۔۔ سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیں

سوچ کی دستک نہیں، یادوں کی خوشبو بھی نہیں زیست کے بے خواب گھر میں کوئی جگنو بھی نہیں نااُمیدی! تیرے گھیرائو سے ڈر لگنے لگا دھڑکنوں کے دشت میں اک چشمِ آہو بھی نہیں جسم کے حساس پودے کو نمو کیسے ملے قرب کی ٹھنڈی ہوا کیا، کرب کی لو بھی نہیں ہم سفر ہیں مصلحت کا خول سب پہنے ہوئے دوستی کیا اب کوئی تسکیں کا پہلو بھی نہیں ضبط کے گہرے سمندر کو تموج بخش دے پیار کی جلتی ہوئی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں وقت نے…

Read More

غزل ۔۔۔۔ میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں

میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جگ میں کس کا کون ہوا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں من مورکھ ہے‘ مت سمجھائو‘ کرنی کا پھل پائے گا چڑھتا دریا کب ٹھہرا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں تم تو اب بھی مجھ سے پہروں دھیان میں باتیں کرتے ہو ترکِ تعلق کیا ہوتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جانے والے‘ حد یقیں تک ہم نے جاتے دیکھے ہیں واپس لوٹ کے کون آتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں میں سوچوں کی…

Read More

سید ضیاء الدین نعیم

کسی سے کچھ مجھے کہنا نہیں ہے غلط فہمی میں بھی رہنا نہیں ہے نہیں کرنا ہے جو ہے نامناسب بہاؤ کی طرف بہنا نہیں ہے تدارک کچھ نہ کچھ کرنا ہے اس کا ستم چپ چاپ اب سہنا نہیں ہے میں کیوں تقلید کی زنجیر پہنوں کہ یہ اک طوق ہے ، گہنا نہیں ہے جمے رہنا نعیم اپنی جگہ پر کسی صورت تمہیں ڈہنا نہیں ہے

Read More