مکتوب بنام ستیہ پال آنند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دست برگ” اور ”رن آن لائنز” کا چلن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممبئی ۲۲ ِاپریل ۱۹۹۱ء محبی آنند صاحب! تسلیمات آپ نے مجھ ناچیز کو یاد فرمایا۔ بے حد ممنون ہوں۔ میں ماہرِ عروض نہیں ہوں۔ جو کچھ بھی استادِ محترم ابوالفصاحت پنڈت لبھورام جوش ملسیانی کے قدموں میں بیٹھ کر سیکھا، اسی سے مشقِ سخن ہوئی۔ کمال کرتارپوری بھی میرے بزرگوں میں سے تھے۔ آپ نے ان کا ذکرِ خیر کیا، گویا مجھے میری پرانی زندگی کی یاد دلا دی۔ مجھےتین چار بار آپ سے شرفِ…
Read MoreTag: best urdu poetry
شاہد فرید
ترکِ تعلقات کا کب شوق تھا ہمیں حالات ہی کچھ ایسے تھے، مجبور ہو گئے
Read Moreکاسہ اُٹھائے پھرتے ہیں خیرات کے لیے ۔۔۔ شاہد فرید
کاسہ اُٹھائے پھرتے ہیں خیرات کے لیے کرنا ہے کچھ تو اب گزر اوقات کے لیے پابند کر دیا ہے محبت کے کھیل نے اب اِذن چاہیے ترا ہر بات کے لیے کیا خوب جا نتا ہے طبیعت مری عدو مجھ سے کمک وہ مانگے مری مات کے لیے انکار کرتے کرتے اچانک پلٹ گیا آمادہ ہو گیا وہ ملاقات کے لیے صحرا بھی میرے ساتھ دعا میں ہوا شریک اُٹھے ہیں ہاتھ جب مرے برسات کے لیے پھر اس کے بعد وہ نہیں آیا کہیں نظر شاہد ہمارا ساتھ…
Read Moreنقش بر آب ۔۔۔ شاہد فرید
نقش بَر آب ۔۔۔۔۔۔ مَیں نے اِک تصویر بنائی جھیل کے نیلے پانی پر لمحوں کے کنکر نے اس میں جھریاں بھر دیں ہجر کی بارش آئی تو وہ ٹھہر نہ پائی اب مَیں جھیل کنارے بیٹھا گزرے وقت کو ڈھونڈ رہا ہوں محو ِ رقص ہے پانی اور مَیں ڈوبے نقش کو ڈھونڈ رہا ہوں اپنے عکس کو ڈھونڈ رہا ہوں
Read Moreخواب زار ۔۔۔ ڈاکٹر غافر شہزاد
خواب زار ۔۔۔۔۔۔۔ خواب زار ۔۔۔شاہدفرید کا اولین مجموعہ کلام ہے اور اس مجموعے کی اشاعت کے سلسلے میں ہی مَیں نے اسے قدرے قریب سے دیکھا ہے۔ سیدھا سادا بھلا سا نوجوان جس کی آنکھوں میں اولیں محبتوں کی جلتی بجھتی چنگاریاں روشن ہیں ۔ محبتیں کرنے والے لوگ یونہی دھیمے کیوں ہوتے ہیں ، اِن کی آواز اور لحن میں احساسِ زیاں نہیں ہوتا۔ اِن کی مٹھی سے زندگی ریت کی طرح مسلسل گرتی رہتی ہے مگر وہ مٹھی خالی ہو جانے سے بے خبر ریت میں روشن…
Read Moreعلامہ محمد اقبال
نغمہ کجا و من کجا سازِ سخن بہانہ ایست سوے قطار می کشم ناقۂ بے زمام را ترجمہ: نغمہ کہاں اور میں کہاں، سازِ سخن تو ایک بہانہ ہے (ورنہ میرا مقصد تو) بے مہار اونٹنی کو قطار کی طرف کھینچنا ہے۔
Read Moreہر چیز ہے محو خودنمائی ۔۔۔ علامہ محمد اقبال
ہر چیز ہے محوِ خودنمائی ہر ذرّہ شہید ِکبریائی بے ذوقِ نمود زندگی، موت تعمیرِ خودی میں ہے خدائی رائی، زورِ خودی سے پربت پربت، ضعفِ خودی سے رائی تارے آوارہ و کم آمیز تقدیر ِوجود ہے جدائی یہ پچھلے پہر کا زرد رُو چاند بے راز و نیازِ آشنائی تیری قندیل ہے ترا دِل تو آپ ہے اپنی روشنائی اک تُو ہے کہ حق ہے اِس جہاں میں باقی ہے نمودِ سیمیائی ہیں عقدہ کشا یہ خارِ صحرا کم کر گلۂ برہنہ پائی
Read Moreمذہب ۔۔۔ علامہ محمد اقبال
مذہب ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نَسب پر انحصار قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری دامنِ دیں ہاتھ سے چهوٹا تو جمعیّت کہاں اور جمعیّت ہوئی رخصت تو ملّت بهی گئی
Read Moreقمر رضا شہزاد، غلام حسین ساجد، حامد یزدانی، محمد خالد، غلام محمد قاصر، لطیف ساحل
قمر رضا شہزاد، غلام حسین ساجد، حامد یزدانی، محمد خالد، غلام محمد قاصر، لطیف ساحل
Read Moreآصف شفیع
عجیب ہوتا ہے آزار نارسائی کا یہ ایسا روگ ہے جس کی کسک نہیں جاتی
Read More