اے تصویر انسان (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…
Read MoreTag: Urdu adab
فرحت پروین ۔۔۔ گولڈ فش
گولڈ فش وہ کسی بے روح لاشے کی طرح بالکل سیدھی لیٹی ہوتی۔ صرف وقفے وقفے سے جھپکتی پلکیں اس کے زندہ ہونے کا پتہ دیتیں ۔وہ شاذ ہی کروٹ کے بَل لیٹتی یا کروٹ بدلتی۔ کم از کم شازینہ نے اسے کبھی پہلو کے بل لیٹے نہیں دیکھا تھا۔ وہ جب بھی اس کے پاس گئی اُسے یونہی مردوں کی طرح بے حس و حرکت لیٹے ہوئے پایا۔ وہ ایک آرام دہ پرائیویٹ کمرے میں مقیم تھی۔ اُس کے کمرے میں ہر سہولت موجود ہونے کے علاوہ روزانہ تازہ…
Read Moreمحمد جواد ۔۔۔ اچھے لوگ برے لوگ
اچھے لوگ برے لوگ یقین کیجیے کرائے کے مکانوں میں دھکے کھانے والوں کی بھی اپنی ایک نفسیات ہوتی ہے یایوں کہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بن جاتی ہے ۔پکاکوٹھاڈال کر رہنے والے کچھ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔وہ اضطراب ، وہ خانہ بدوشانہ قسم کامزاج اور وہ عجیب طرح کا عدم تحفظ بس وہی لوگ بھگتتے ہیں جوان تجربات سے گزرتے ہیں ۔میں یہ سب باتیں آپ سے اس لیے shareکر رہا ہوں کہ دوماہ قبل میں نے اپنی بیوی اور دوبچوں سمیت پھرنقل مکانی…
Read Moreارشد شاہین ۔۔۔ حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا
غزل حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا اُس کے نام زندگی کا انتساب لکھ دیا پوچھتا تھا مجھ سے وہ حصولِ زندگی ہے کیا اشک آنکھ سے گرے ، زمیں پہ خواب لکھ دیا اُس کی جب مثال دی تو سامنے کی بات کی چاند کہہ دیا کبھی، کبھی گلاب لکھ دیا جس قدر وہ ہے اُسے بیاں کیا اُسی قدر کب ہوا کہ میں نے اُس کو بے حساب لکھ دیا یوں کرم کیا ہے مجھ پہ ربِ کائنات نے سوچنے سے قبل مجھ کو کامیاب لکھ…
Read Moreیزدانی جالندھری
بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ایک کہانی نئی پرانی
ایک کہانی نئی پرانی تو کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے کہانیاں لکھنی سیکھ لی ہیں ۔بہت خوب!۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمھاری اکثر کہانیوں میں تمھاری اپنی ہی دہرائی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ۔ تھوڑ ا سا مرچ مصالحہ ڈال لیا ۔ کچھ نئے معنی پر لفظوں کی نئی ترتیب کا رنگ روغن چڑ ھا لیا اور سمجھ لیا کہ تم نے کہانی لکھ لی۔ تم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ تم خود بھی ایک کہانی ہو۔ ایسی کہانی کہ اگر لکھی جائے ‘…
Read Moreذوالفقار عادل ۔۔۔ وہ شہر کسی شہر میں محدود نہیں تھا
وہ شہر کسی شہر میں محدود نہیں تھا اُس میں وہ سبھی کچھ تھا جو موجود نہیں تھا خاموش کچھ ایسا تھا کہ بس تھا ہی نہیں دل آباد بس اتنا تھا کہ نابود نہیں تھا گم ہو گئی زنجیر کی آواز میں آواز افسوس کہ ہم میں کوئی داؤد نہیں تھا مقبول نہیں گرچہ مرے دل کی معیشت یاں کوئی خسارہ کبھی بے سُود نہیں تھا چُھو کر اُسے دیکھا تھا مکرّر نہیں دیکھا عادل وہ مرا خواب تھا، مقصود نہیں تھا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں
دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں اشک بھی جیسے اوس ہُوئے دیتے جو دکھائی کم کم ہیں اک جیسی ہیں وہ جلتی آنکھوں کی ہوں کہ چراغوں کی رخساروں منڈیروں پر جتنی بھی لَویں ہیں مدّھم ہیں صحراؤں میں دست و گریباں اِک دوجے سے بگولے بھی بحر کنارے موجیں بھی مصروفِ شورشِ باہم ہیں وہ بھی جو دبنے والے ہیں نسبت اُس سے رکھتے ہیں اور وہ بھی جو دھونس دکھائیں فرزندانِ آدم ہیں اب کے تو آثارِ سحر جیسے نہ اِنہیں بھی دکھائی دیں…
Read Moreشاہین عباس
کہاں کہاں اِس مکاں کی تنہائی کم کروں گا یہ میں اکیلا مکاں گرفتہ ، مکاں گزیدہ
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے
شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے کسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھے پکارتا نہیں کوئی لحد پر آ کے مجھے مرے نصیب بھی کیا سو رہے سلا کے مجھے وہ بولے وصل کے شب آپ میں نہ پا کے مجھے چلے گئے ہیں کہاں اپنے گھر بلا کے مجھے گرا دیا ہے کچھ اس طرح اس نے آنکھوں سے کہ دیکھتا نہیں کوئی نظر اٹھا کے مجھے پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے…
Read More