کس نے کہا تھا کھیل رچاؤ خلا میں تم کیوں ہاتھ مل رہے ہو اگر کٹ گئی پتنگ
Read MoreTag: Urdu adab
نجیب احمد ۔۔۔ ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو!
ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو! کیا مرے ساتھ سمندر میں اتر سکتے ہو؟ نیند کے شہر سے گزرو تو اجازت ہے تمھیں خواب کی گلیوں میں کچھ دیر ٹھہر سکتے ہو حسنِ توقیر سے رکھنا ہیں خد و خال تہی رنگ رُسوائی کا تصویر میں بھر سکتے ہو منصبِ عشق طلب کرتے ہو کس برتے پر کیا کسی کے لیے جی سکتے ہو؟ مر سکتے ہو؟ کیا کہوں ، شہرِ قناعت میں ہے برکت کتنی مختصر یہ کہ بسر چین سے کر سکتے ہو دُکھ اسیری…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منشا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا
حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیبِ زرِ نام و ننگ ہوں اک میں ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اِس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑ تا نہیں کسی کے بچھڑ نے سے کوئی فرق میں اُس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا آیا جو اُس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا اور آئنے سے اُس کی شکایت نہ…
Read Moreقاضی حبیب الرحمٰن
عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی
Read Moreقاضی حبیب الرحمان ۔۔۔ ہر آن پھیلتا جاتا ہے غم کا صحرا بھی
غزل ہر آن پھیلتا جاتا ہے غم کا صحرا بھی بجھا سکا نہ مری پیاس ہفت دریا بھی عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی گزرتی جاتی ہے ہر سانس زندگی اپنی ٹھہر سکا کہیں دم بھر، ہوا کا جھونکا بھی ہزار بار مری جاں ، اسے غنیمت جان! نگاہ بھر کو جو ہے فرصتِ تماشا بھی دوئی نہیں ہے محبت کے تجربے میں کوئی مری طلب ہے تری آنکھ سے ہویدا بھی اس اک امید پہ خود کو بھی تیاگ…
Read Moreاحمد فاروق ۔۔۔ صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں
غزل صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں سرِ را ہے تو ہے ، سرِ را ہے میں ہوں لبِ جو سوختۂ شبِ ما ہے میں ہوں نظرے ! باہمہ حالِ تبا ہے میں ہوں تری رفتار کا مارا ہوا تیرا اسیر اُمڈ اے موجۂ زُلفِ سیا ہے ! میں ہوں اُسی دیوار کے سائے تلے گریہ کناں گہے گاہے تو ہے ، گہے گاہے میں ہوں مجھے معلوم ہے کوئی نہیں آئے گا مگر ایسا ہے کہ چشم برا ہے میں ہوں
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ حسرت کی عشقیہ شاعری: میری نظر میں
حسرت کی شاعری کی قدروقیمت کو پرکھتے وقت ان کے ان اشعار کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے: شعر در اصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں غالب و مصحفی و میر و نسیم و مومن طبعِ حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض ہے زبانِ لکھنؤ میں رنگِ دہلی کی نمود تجھ سے حسرت نام روشن شاعری کا ہو گیا رکھتے ہیں عاشقانِ حسنِ سخن لکھنوی سے نہ دہلوی سے غرض تو نے حسرت کی عیاں تہذیبِ رسمِ عاشقی تجھ سے پہلے اعتبارِ شانِ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ زاہدہ حنا
زاہدہ حنا زاہدہ حنا ایک ممتاز صحافی، کالم نگار، فکشن اور ڈراما نگار ہیں۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء کے روز سہسرام (بہار) میں پیدا ہوئیں۔والد کی ملازمت کی وجہ سے بچپن رام پور میں گزرا۔اُردو اور فارسی کا کلاسیکی ادب اپنے والد سے پڑھا۔اِن کی ادبی تربیت میں والد کا بہت حصہ رہا۔بہت عرصے سے ایک قومی اخبار میں ’’نرم گرم‘‘ کے نام سے کالم لکھ رہی ہیں۔وہ ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور وائس آف امریکا سے بھی منسلک رہیں۔ اِن دنوں ادارہ انجمن ترقیٔ اُردو، کراچی کی سربراہ ہیں۔اُن…
Read Moreعطاء الرحمٰن قاضی ۔۔۔ ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں
ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں بھٹک رہا ہوں میں اپنے ہی آس پاس کہیں ہواے غم میں نہ ڈھل جائے ، یہ ہواے نشاط کشید کرتے ہوئے ان گُلوں کی باس کہیں بھروں سراب کے دریا میں رنگِ آبِ رواں اتار لوں رگِ جاں میں اگر یہ پیاس کہیں گریز کر مگر اتنا بھی کیا گریز، بھلا کہ آ نہ جائے ترا ہجر ہم کو راس کہیں دلِ شکستہ کے آثار دیدنی ہیں عطا پڑ ے ہیں خواب کہیں تو اگی ہے گھاس کہیں
Read More