اکرم کنجاہی ۔۔۔ پروین شاکر

پروین شاکر پروین شاکر کے ہاں بھی اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات زیادہ ہے مگر اظہارِ بیاں کی ایسی خوب صورتی کے ساتھ کہ اُن کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہی درد کی کائنات بن گیا۔اگرچہ وہ خود اپنے ہم عصروں میں پروین فنا سید،کشور ناہیداورفہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں مگراُن کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت نے انہیں دورِ جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔یوں اُنہیں کم عرصے اور کم عمری ہی میں ایسی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ پیش روؤں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ یاسمین حمید

یاسمین حمید ادبی دنیا میں یاسمین حمید کا پہلا تعارف شعری مجموعہ ’’پس آئینہ‘‘ (1988 ء) سے ہوا۔وہ بہت پہلے سے شعر کہہ رہی تھیں اور پختہ کار تھیں۔ لہٰذا فکری و اسلوبیاتی سطح پر پسِ آئینہ نے ادبی دنیا پر اپنا بھر پور تاثرقائم کیا۔ہم محدود مطالعے کے باعث نسائی شاعری کو ادا جعفری سے شروع کر کے پروین شاکر یا پھر شبنم شکیل پر ختم کر دیتے ہیں۔حالاںکہ اُن کی پیش رو شاعرات کے ابتدائی شعری مجموعے زیرِ مطالعہ لائیے، آپ اِس بات سے اتفاق کریں گے کسی…

Read More

محسن اسرار

ابھی تو روشنی ہی کی ہے میں نے ابھی تم دیکھنا کیا کیا کروں گا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون

سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون ظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کون مٹی مریضِ غم کی ٹھکانے لگائے کون دنیا تو ان کے ساتھ ہے میت اٹھائے کون تیور چڑھا کے پوچھ رہے ہیں وہ حالِ دل رودادِ غم تو یاد ہے لیکن سنائے کون ہم آج کہہ رہے ہیں یہاں داستانِ قیس کل دیکھئے ہمارا فسانہ سنائے کون اے ناخدا، خدا پہ مجھے چھوڑ کر تو دیکھ ساحل پہ کون جا کے لگے ڈوب جائے کون رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمر اس چاندنی…

Read More

مظفر حنفی

خون للکارتا ہے بڑھ بڑھ کر صاف آواز آ رہی ہے مجھے

Read More

نجیب احمد ۔۔۔ ہونے کو اس دیار میں کیا کچھ ہوا نہیں

ہونے کو اس دیار میں کیا کچھ ہوا نہیں لیکن وہ ایک تو کہ دوبارہ ملا نہیں تھوڑ ی سی مختلف یہ کہانی ضرور ہے لیکن جو ہو رہا ہے تماشا نیا نہیں کچھ ہو رہا ہے اس کی خبر تو ہوا کو تھی کیا ہو رہا ہے اس کا کسی کو پتہ نہیں کیوں کھیلتا ہوں آتش و آہن کا کھیل میں انسان کے لہو کا اگر ذائقہ نہیں کیا کیا رہِ سفر میں رکاوٹ کھڑ ی نہ کی جھونکا مگر ہوا کا کہیں پر رُکا نہیں سب جانتے…

Read More

کنور امتیاز احمد ۔۔۔ اشک کا جیسے ستارہ ہونا

اشک کا جیسے ستارہ ہونا میرا ، رونے سے ، تمھارا ہونا اُس کی آنکھوں سے سمجھ آتا ہے کسی دریا کا کنارہ ہونا اب تو لگتا ہے کہ ممکن ہی نہیں شہر میں دل کا گزارا ہونا یعنی مٹنا ہی نہیں ہے ہم کو طے ہے گر اپنا دوبارہ ہونا اور انسان سمجھتا ہی نہیں ! فائدے میں بھی خسارہ ہونا

Read More

شمشیر حیدر ۔۔۔ شوقِ جنوں میں طے یہ مراحل نہیں ہوئے

شوقِ جنوں میں طے یہ مراحل نہیں ہوئے جیسے بھی خواب تھے ، مری منزل نہیں ہوئے تجھ کو نہیں ملے ہیں تو اس پر گلہ نہ کر ہم اپنے آپ کو بھی تو حاصل نہیں ہوئے اک عمر تجھ سے بحث میں اپنی گزر گئی پھر بھی تو حل ہمارے مسائل نہیں ہوئے گھٹنوں کے بَل بھی ٹھیک سے چلنا نہ آ سکا ہم لوگ تو ابھی کسی قابل نہیں ہوئے تیرے سوا تو جتنے بھی چہرے تھے سب کے سب آنکھوں نے دیکھے ، خون میں شامل نہیں…

Read More

یزدانی جالندھری

ہم سے بھی پوچھ داورِ محشر کوئی سوال ہم بھی بڑی حسین خطا کر کے آئے ہیں

Read More

سعید دوشی ۔۔۔ کوکھ جلا سیارہ​

کوکھ جلا سیارہ​ یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے گلوبی گردشیں ساری ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں یہاں دل ہی نہیں گھٹتا بدن کا وزن بھی تفریق در تفریق ہوتا مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے مسلسل گردشوں پر گر کوئی نظریں جمائے گا تو پھر چکر تو آئیں گے یہاں املی نہیں ملتی فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں گہر ہونے کی خواہش میں برسنے…

Read More