وہ اور وہ ۔۔۔ حامد یزدانی

وہ  اور  وہ ۔۔۔۔۔۔ ’’اچھا، تم ہی بتائو مجھے ۔۔۔۔ جو نہیں ہے یا نہیں ہوا، کیا وہ ہو بھی نہیں سکتا؟‘‘ ’’بھئی، اشفاق صاحب کے افسانوں کی حدتک تو سب کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔کوئی نورانی بابا جی اچانک کہیں سے نمودار ہو کرجنگل میں بھٹکتے پیاسے کو ہدایت کاروح افزا پلا سکتے ہیں، ایک جیپ خود بخود سٹارٹ ہو کر اپنے مالک کے قاتل کو انجام تک پہنچا سکتی ہے ۔۔۔ مگر حقیقت اور افسانہ دو مختلف چیزیں ہیں‘‘۔ ’’کچھ ایسی مختلف بھی نہیں ہیں کہ جن کے…

Read More

فہمیدہ ریاض

پھر ہم ہیں، نیم شب ہے، اندیشہء عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا

Read More

نعمان فاروق ۔۔۔۔۔ جانے کیا بات بتانے مجھ کو

جانے کیا بات بتانے مجھ کو دھوپ آئی ہے جگانے مجھ کو اب ذرا ہانٹ نہیں کرتے ہیں تیری چاہت کے فسانے مجھ کو جانے کیا یاد دلانے آئے تیری چاہت کے زمانے مجھ کو آئو پانی سے گلے ملتے ہیں پیاس آئی ہے بلانے مجھ کو ہجر کی رُت چلی آئی نعمان تیری چوکھٹ سے اٹھانے مجھ کو

Read More

خُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔ پروین شاکر

خُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی پندار کی کرچیاں چُن سکوں گی شکستہ اُڑانوں کے ٹوٹے ہُوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اِتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن ۔۔۔ یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!

Read More

شناور اسحاق

دن نکل آیا ہے پھر تہمتِ رونق لے کر آپ کو شہر سے جانا بھی نہیں آتا ہے

Read More

دیارِ آزر و بہزاد و مانی سے چلے جائیں ۔۔۔ شناور اسحاق

دیارِ آزر و بہزاد و مانی سے چلے جائیں ہم اکثر سوچتے ہیں اِس کہانی سے چلے جائیں ہمیں مٹی سے چھپنے کا ہنر آتا نہیں، شاہا! وگرنہ ہم بھی تیری راجدھانی سے چلے جائیں تو دریا ہے، تجھے اب کیا کہیں ہم اِذن کے قیدی اکیلے ہوں تو ہم تیری روانی سے چلے جائیں لہو کب سے کسی بابِ خفی کی جستجو میں تھا چلو اب اس فشارِ بد گمانی سے چلے جائیں بدن میں گر رہی ہے اوّلیں اِقرار کی شبنم شناور! اس جحیمِ لازمانی سے چلے جائیں

Read More

کیا بتلائیں! ۔۔۔ شناور اسحاق

کیا بتلائیں! ۔۔۔۔۔۔۔ نِندیا پور میں شور مچانے یہ شبدوں کے غول نہ جانے کن جھیلوں سے آ جاتے ہیں نیند اکہری کر دیتے ہیں ( نیند اکہری ہو جائے تو راتیں بھاری ہو جاتی ہیں) دنیا داری رشتے ناطے بازاروں اور گلیوں کی سَت رنگی رونق بیداری کو گہرا کرنے والے جتنے حربے تھے سب ہم پر ناکام ہوئے ہیں سونے والوں کے صحنوں میں جاگنے والوں کی گلیوں میں ہم جیسے بے زار بہت بدنام ہوئے ہیں

Read More

بہت شور سنتے تھے! ۔۔۔ نوید صادق

میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ بہت شور سنتے تھے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم صاحب نے ایک روز قبل بیان دیاتھا کہ وہ کورونا وائرس سے پھیلی وبا سے نمٹنے کے لیے روڈ میپ دیں گے۔ بہت انتظار تھا کہ دیکھیے کیا روڈ میپ ملتا ہے، کیا لائحہ عمل سامنے آتا ہے۔ سارا گھر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا تھا۔ نو بج کر پندرہ منٹ ۔۔۔ وزیراعظم ۔۔۔مضطرب عوام ۔۔۔ اور پھر وہ وقت آ ہی گیا۔وہی باتیں، جو پچھلے خطبات ۔۔۔ ایک بات یوں ہی دل میں آ ئی کہ ہمارے ہاں جو رواج…

Read More