زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفرخواہش قربِ بدن…
Read MoreTag: اردو شاعر
نعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم
نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…
Read Moreسعید راجہ
اپنی قسمت میں کجی ایک یہی دیکھی ہے سب میسر ہے فقط تیری کمی دیکھی ہے
Read Moreسلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ
پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سعید راجا
نصابِ حسن و ہدایت پہ بات کی جائے حضورِ پاک کی سیرت پہ بات کی جائے کہ جس کے بعد نہ آئے گا اب نبی کوئی اسی نبی کی نبوت پہ بات کی جائے میں امتی ہوں خدا کے رسولِ ارفع کا مِرے نصیب کی رفعت پہ بات کی جائے کسی کو ضد ہے کہ تفصیل دوں گناہوں کی مُصِر ہوں میں کہ شفاعت پہ بات کی جائے میں واقعہ شبِ معراج کا سناتا ہوں جو اوجِ شانِ رسالت پہ بات کی جائے مِرے نبی کے مدینے سے ہو کے…
Read Moreسعید راجا ۔۔۔ مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا
مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا ازل سے چپ تھا جو فرفر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلب پھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پر میں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مِری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگر وہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اتری مِری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھے جواب میں…
Read Moreرانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام
اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…
Read Moreذوالفقار نقوی
کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے
Read Moreعزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں
کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…
Read Moreماجدالباقری
فکرِ معاش جسم سے آرام لے گئی جب تھک گیا تو فرش بھی بستر لگا مجھے
Read More