شہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…

Read More

نجیب احمد ۔۔۔ ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو!

ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو! کیا مرے ساتھ سمندر میں اتر سکتے ہو؟ نیند کے شہر سے گزرو تو اجازت ہے تمھیں خواب کی گلیوں میں کچھ دیر ٹھہر سکتے ہو حسنِ توقیر سے رکھنا ہیں خد و خال تہی رنگ رُسوائی کا تصویر میں بھر سکتے ہو منصبِ عشق طلب کرتے ہو کس برتے پر کیا کسی کے لیے جی سکتے ہو؟ مر سکتے ہو؟ کیا کہوں ، شہرِ قناعت میں ہے برکت کتنی مختصر یہ کہ بسر چین سے کر سکتے ہو دُکھ اسیری…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے

نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منشا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا

حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیبِ زرِ نام و ننگ ہوں اک میں ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اِس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑ تا نہیں کسی کے بچھڑ نے سے کوئی فرق میں اُس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا آیا جو اُس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا اور آئنے سے اُس کی شکایت نہ…

Read More

قاضی حبیب الرحمٰن

عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی

Read More

احمد فاروق ۔۔۔ صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں

غزل​ صفتِ سیل ہے تو، پرِ کا ہے میں ہوں سرِ را ہے تو ہے ، سرِ را ہے میں ہوں لبِ جو سوختۂ شبِ ما ہے میں ہوں نظرے ! باہمہ حالِ تبا ہے میں ہوں تری رفتار کا مارا ہوا تیرا اسیر اُمڈ اے موجۂ زُلفِ سیا ہے ! میں ہوں اُسی دیوار کے سائے تلے گریہ کناں گہے گاہے تو ہے ، گہے گاہے میں ہوں مجھے معلوم ہے کوئی نہیں آئے گا مگر ایسا ہے کہ چشم برا ہے میں ہوں

Read More

عطاء الرحمٰن قاضی​ ۔۔۔ ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں

ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں بھٹک رہا ہوں میں اپنے ہی آس پاس کہیں ہواے غم میں نہ ڈھل جائے ، یہ ہواے نشاط کشید کرتے ہوئے ان گُلوں کی باس کہیں بھروں سراب کے دریا میں رنگِ آبِ رواں اتار لوں رگِ جاں میں اگر یہ پیاس کہیں گریز کر مگر اتنا بھی کیا گریز، بھلا کہ آ نہ جائے ترا ہجر ہم کو راس کہیں دلِ شکستہ کے آثار دیدنی ہیں عطا پڑ ے ہیں خواب کہیں تو اگی ہے گھاس کہیں

Read More

شاہین عباس ۔۔۔   اے تصویر انسان​

اے تصویر انسان​ (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…

Read More

ارشد شاہین ۔۔۔ حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا

غزل حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا اُس کے نام زندگی کا انتساب لکھ دیا پوچھتا تھا مجھ سے وہ حصولِ زندگی ہے کیا اشک آنکھ سے گرے ، زمیں پہ خواب لکھ دیا اُس کی جب مثال دی تو سامنے کی بات کی چاند کہہ دیا کبھی، کبھی گلاب لکھ دیا جس قدر وہ ہے اُسے بیاں کیا اُسی قدر کب ہوا کہ میں نے اُس کو بے حساب لکھ دیا یوں کرم کیا ہے مجھ پہ ربِ کائنات نے سوچنے سے قبل مجھ کو کامیاب لکھ…

Read More

یزدانی جالندھری

بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے

Read More