ماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں

جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں

Read More

سید آل احمد

آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل

ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل برق پر پھول ہنسے، برق نشیمن پہ گری میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل خیر گلشن میں اُڑا تھا مری وحشت کا مذاق اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل کوششیں کرتی ہوئی پھرتی ہے گلشن میں نسیم جمع ہوتا نہیں بکھرا ہو شیرازۂ گل اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل

Read More

محسن اسرار

حقیقت کے سوا جچتا نہیں کچھ مگر ہم خواب پھر بھی دیکھتے ہیں

Read More

سید آل احمد

تیرا دُکھ تو ایک لڑی تھا خوشیوں کی تار الگ یہ کس نے کیا شیرازے سے

Read More

قلندر بخش جرات

عاشق کے گھر کی تم نے بنیاد کو بٹھایا غیروں کو پاس اپنے ہر دم بٹھا بٹھا کر

Read More

شاہ نصیر

لگ گیا خاک ہو کے جسم نصیر کوچۂ یار میں ٹھکانے آج

Read More

سید آل احمد

کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…

Read More

شاہین عباس

میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی

Read More