تنہائی سے آگے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

تنہائی سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب بحثیں جو گھس پِٹ کے پرانی ہو جائیںجب کوئی رس نہ ہو دہرائی ہوئی باتوں میںمضمحل روحیں خموشی کا سہارا ڈھونڈھیںجب کوئی لطف نہ رہ جاۓ ملاقاتوں میں جب نہ محسوس ہو کچھ گرمئ آداب و سلامجی نہ چاہے کہ کوئی پرسشِ احوال کرےدور تک  پھیلی ہوئی دھند ہو، سنّاٹے ہوں سب کے سب بیٹھے ہوں اور کوئی نہ ہو کچھ نہ رہے ان خلاؤں سے نکل کر کہیں پرواز کریںآؤ کچھ سیر کریں ذہن کی پہنائی میں!کیوں نہ دریافت کریں ایسی گزر گاہوں کوبات…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

تابِ سخن تمام ۔۔۔ خالد احمد

تابِ سخن تمام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس رُخ کروں قصیدۂ شاہِ زَمن تمام تشیب  ہی میں ہو گئی تابِ سخن تمام اے کاروانِ خاک و خل و خار و خس! سنبھلمحمل کے ساتھ ساتھ ہیں گُل پیرہن تمام گُل کِھل رہے ہیں کھلتے سُروں کی اٹھان سےنقشِ قدم ہیں یاسمن و نسترن تمام آئینۂ نگاہ میں اُترا وہ آئنہ آئینہ لاخ ہو گئے رُوئینہ تن تمام ہر لفظ چاہتا ہے کہ اُس ذکر میں ڈھلے دَر پر ہیں دست بستہ بتانِ سخن تمام مدّاح کارِ مدح سے غافل نہیں ہوئے تارِ نفس کے ساتھ…

Read More

منصورحسین فائز … زمین چلنے لگی  آسمان چلنے لگا

زمین چلنے لگی  آسمان چلنے لگا قدم اٹھائے تو سارا جہان چلنے لگا کسی خیال کا سایہ تھا یا کوئی بادل سفر میں ساتھ مرے نگہبان لگا تلاشِ حق میں چلے تھے تو ہم سفر ہوکر قدم قدم پہ کوئی مہربان چلنے لگا بھنور کی گود سے کشتی اچھل کے چلنے لگی ہوا نے ساتھ دیا بادبان چلنے لگا الجھ رہا ہوں میں ہونے میں یا نہ ہونے میں یقین رکنے لگا تو گمان چلنے لگا اندھیری رات کی آغوش کا اثر دیکھا کسی کی یاد کے سائے میں دھیان…

Read More

اکرم کنجاہی…  روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر)

 روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر) کاشف حسین غائر ہمارے کراچی کے ان چند تازہ دم شعرا میں سے ہیں جن کے ہاں تھکاوٹ کا احساس نہیں۔ وہ بڑے سلیقے سے غزل کہہ رہاہے۔اُس نے غزل کو غزل سمجھ کر کہا ہے، اُس کی کوملتا پر حرف نہیں آنے دیا۔ اُس کے ہاں غزل اپنے پورے حسن، نزاکت اور لطافت کے ساتھ جلوہ ریز ہے۔ میں اِسے خالص غزل کا نام دوں گا کہ کاشف حسین غائر نے غزل میں زیادہ موضوعاتی تجربات کرنے کی بجائے اس…

Read More

تاج الدین تاج … انداز محبت کو سمجھتے ہی نہیں ہو

انداز ِمحبت کو سمجھتے ہی نہیں ہو تم یار کی عادت کو سمجھتے ہی نہیں ہو پھر کیسے کرو گے مری وحشت کا مداوا تم جب مری وحشت کو سمجھتے ہی نہیں ہو باتیں تو بغاوت کی بہت کرتے ہو لیکن دستورِ بغاوت کو سمجھتے ہی نہیں ہو تم اہل محبت ہو فقط خوگرِ نقصان تم لوگ تجارت کو سمجھتے ہی نہیں ہو کیا تم یونہی انجان بنے بیٹھے ہو مجھ سے؟ کیا تم مری حالت کو سمجھتے ہی نہیں ہو؟ عورت کو سمجھتے ہو فقط اپنی ضرورت عورت کی…

Read More

سہیل یار ۔۔۔ انا  سے ہٹ کے اگر ذات ہو بھی سکتی ہے

انا  سے ہٹ کے اگر ذات ہو بھی سکتی ہے جہاں میں پیار کی پھر بات ہوبھی سکتی ہے کچھ اس لیے بھی سر شام  پھرتا رہتا ہوں کہیں تو اس سے ملاقات ہو بھی سکتی ہے وہ کاکلوں کی گھنی چھاؤں میں بٹھا لے تو عجب نہیں کہ وہیں رات ہو بھی سکتی ہے اگر وہ چاند گھٹاؤں سے باہر آجائے تو مجھ پہ نور کی برسات ہو بھی سکتی ہے اگر وہ مجھ کو بھی انسان مان لے تو یہاں بلند کچھ مری اوقات ہو بھی سکتی ہے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ استاد قمر جلالوی

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اَصلا دیکھیخُوب  جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی تو نے قبل از دو جہاں شانِ تجلیٰ دیکھیعرش سجتا ہوا ،بنتی ہوئی دنیا دیکھی تیرے سجدے سے جھکی سارے رسولوں کی جبیںسب نے اللہ کو مانا  ،تری دیکھا دیکھی میزباں ،خالقِ کو نین بنا خود تیراتیری توقیر سرِ عرشِ معلٰی دیکھی آپ چپ ہو گئے ارمانِ زیارت سن کرمیری حالت پہ نظر کی نہ تمنا دیکھی حق کے دیدار کی بابت  جو کہا فرمایااِک…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے

زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں  کا سفرخواہش قربِ بدن…

Read More

جانِ عالم … فغاں فغاں فغاں ابھی

فغاں فغاں فغاں ابھی بندھا نہیں سماں ابھی ابھی تھکا نہیں ہوں میں چڑھوں گا سیڑھیاں ابھی اسی جگہ پہاڑ تھا کھڑا ہوں میں جہاں ابھی ہوں لامکاں میں دربدر نہیں ملا مکاں ابھی دبا ہوا ہوں راکھ میں ہوا نہیں دھواں ابھی وہ آئی سرپھری ہوا بجیں گی کھڑکیاں ابھی ابھی ہَوا میں ہو میاں! ہے دُور آسماں ابھی سمجھ بہار آ گئی سمجھ گئی خزاں ابھی وہ در کھلا ، وہ آ گیا ابھی کہاں ، کہاں ابھی میں آپ سے نہیں ملا کہ میں ہوں درمیاں ابھی

Read More